170 سیٹ لینے والے کو جیل میں ڈال دیا گیا اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں آگیا، ایم کیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کی مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے، درست مردم شماری ہوگئی تو سندھ کی قسمت بدل جائے گی، بھٹو صاحب کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا اختیار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ آئین سے بغاوت قبول نہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاق پر حملہ ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے ہوتے سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینئر مرکزی رہنماؤں مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، امین الحق، فیصل سبزواری اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ مرکز بہادر آباد کراچی میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک اہم موڑ پر داخل ہوگئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے، ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرداد منظور ہوئی، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے، کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قراداد منظور کر سکتا ہے، سندھ اسمبلی میں منظور قراداد پاکستان کے خلاف ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 1971ء میں ملک کو توڑا گیا، تمام صوبوں نے اردو کو قومی زبان مانا سوائے سندھ کے کیونکہ مقصد کچھ اور تھا جو اب کھل کر سامنے آچکا ہے، ماضی میں ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ بھی پاکستان کی تقسیم کا نعرہ تھا۔ 170 سیٹ لینے والے (شیخ مجیب) کو جیل میں ڈال دیا گیا اور 80 سیٹ لینے والا (بھٹو) حکومت میں آگیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں ہے، مسائل کا حل مکالمہ ہے، پیپلز پارٹی نے کس خوف کی وجہ سے قراداد پیش کی، ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کے حصے ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟ یہ قرارداد سندھو دیش کے خواب کو برقرار رکھنے کیلئے ہے، سندھ ملک کا امیر ترین صوبہ ہے، سب سے زیادہ ملک غربت بڑھی تو وہ سندھ صوبہ ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ کی مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے، درست مردم شماری ہوگئی تو سندھ کی قسمت بدل جائے گی، بھٹو صاحب کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا اختیار ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی آبادی میں 33 فیصد کم گنا گیا، پاکستان کے حق کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو غداری کہہ کر دبایا جاتا ہے، ایم کیو ایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، ایم کیوایم کے بانی نے ایک نعرہ لگایا تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے ملے ہیں، ان 30 ہزار ارب میں سے آدھے تو کراچی کو ملنا چاہیے تھا، وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے حکومت سندھ عیاشی پر خرچ کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افواج پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں مردم شماری کرائیں، پاکستان کی تاریخ 47ء سے شروع ہوتی ہے لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے، پاکستان کے آئین میں صوبے بنانے کا ذکر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسی پارٹی ہے جو اپنے لیڈر کے بنائے آئین کے خلاف قراداد اسمبلی میں پیش کرتی ہے، اب بات آگے بڑھے گی، پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین جو کہ ایک زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے، پاکستان کے آئین کا آرٹیکل (4) 239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے روگردانی کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے کو تیار نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے آئین پیپلز پارٹی ایم کیو ایم سیٹ لینے سندھ کی کے خلاف
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر