کراچی، فلسطین فاؤنڈیشن کے تحت سالانہ القدس کانفرنس اور افطار وحدت کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، ہندو، سکھ اور مسیحی مذاہب کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت تاجر برادری، وکلاء، اساتذہ اور طلباء رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ عالمی یوم القدس منایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی میں سالانہ القدس کانفرنس اور افطار وحدت سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، ہندو، سکھ اور مسیحی مذاہب کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت تاجر برادری، وکلاء، اساتذہ اور طلباء رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ عالمی یوم القدس منایا جائے گا۔ کانفرنس کا انعقاد فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی ملک بھر میں جاری مہم رمضان فلسطین کے ساتھ کے عنوان سے کیا گیا تھا، جس سے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق رکن سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی، مولانا باقر عباس زیدی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ شبیر میثمی، پاکستان مسلم لیگ نواز کے پیر ازہر علی ہمدانی،پاکستان تحریک انصاف کے اسرار عباسی، معروف عالم دین مولانا اصغر شہیدی، جمعیت علماء پاکستان سندھ کے صدر کے علامہ عقیل انجم قادری، علامہ قاضی احمد نورانی، جے یو آئی (س) کے حافظ احمد علی، پاکستان عوامی تحریک کے راؤ کامران، علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ امین انصاری، بشیر سدوزئی، ہندو اسکالر منوج چوہان، مسیحی رہنما پاسٹر رحمت لال، پاسٹر عمانئیول صوبہ، سکھ رہنما سردار انیل سنگھ، سردار ارجن سنگھ، ارم بٹ، دانیال جیلانی اور دیگر نے خطاب کیا۔
کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے، جن میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی، عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ القدس کے پروگراموں میں شرکت کریں اور مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔ مقررین نے کہا کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور اسے فی الفور بند ہونا چاہئیے، انہوں نے کہا کہ نام نہاد امن بورڈ بنا کر غزہ کو تجارتی منصوبوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، جس کو پاکستانی عوام تسلیم نہیں کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ ٹرمپ کا بنایا گیا بورڈ آف پیس فلسطینی مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کی ایک سازش ہے، نام نہاد امن بورڈ درحقیقت فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت کو کمزور کرنے اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
مقررین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس بورڈ سے اپنی شمولیت واپس لے اور واضح مؤقف اختیار کرے کہ پاکستان کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے منافی ہو۔ رہنماؤں ںے کہا کہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام غاصب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک جنگی مجرم سمجھتے ہیں اور اس سے سخت نفرت کرتے ہیں جبکہ 100 فیصد عوام نیتن یاہو کو سخت ناپسند کرتے ہیں، گیلپ سروے میں حقائق اور نتائج کو توڑ موڑ کر پاکستان میں اسرائیل کیلئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش کی گئی ہے۔ رہنماؤں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ قائم سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کریں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت فلسطینی عوام کی عملی مدد کریں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینی عوام کی جدوجہد سے انحراف ہے اور اس سے صہیونی ریاست کو مزید جارحیت کا حوصلہ ملتا ہے۔ مقررین نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں اپنی سرزمین کے دفاع اور اسرائیلی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں، ان کو اپنی آزادی کیلئے ہر جائز اور قانونی حق حاصل ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی مہاجرین کا حقِ واپسی ایک ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ تاریخی فلسطین میں ایک آزاد و شفاف ریفرنڈم کرایا جائے، جس میں تمام اصل باشندوں بشمول بیرونِ ملک مقیم فلسطینی مہاجرین اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطین فاؤنڈیشن فلسطینی عوام پاکستان کے کہا کہ اور اس کیا کہ
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔