پیرو میں سیلاب متاثرین کی مدد کو جانے والا ملٹری ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس میں کم از کم 15 افسران ہلاک ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیرو کی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ ایم آئی -17 ہیلی کاپٹر سیلاب زدہ علاقے میں ریسکیو آپریشن میں مصروف تھا۔

روسی ساختہ اس ہیلی کاپٹر پسکو سے روانہ ہوا تھا اور سیلاب زدگان کو نکال کر محفوظ مقام پر لے جا رہا تھا اور اسی دوران ہیلی کاپٹر کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

پیرو فضائیہ کے بیان میں کہا گیا کہ سرچ آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر کا ملبہ چالا ٹاؤن آریکوئپا کے قریب تقریباً 300 کلومیٹر دور پایا گیا۔

ہیلی کاپٹر جل کر مکمل طور پر راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا جس میں سے ناقابل شناخت لاشیں نکالی گئیں۔ مرنے والوں میں چار عملے کے ارکان اور گیارہ سیلاب زدگان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پیرو میں مسلسل بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس میں 10 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے۔

سیلاب نے اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے اور انفرااسٹریکچر تباہ ہوگیا۔

سیلابی پانی میں پھنسے ہزاروں شہریوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے لیے حکومت نے ریلیف کے کاموں کے لیے فوج سے مدد طلب کی گئی تھی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان