ڈونلڈ ٹرمپ کا سپریم کورٹ فیصلے کے بعد مختلف ممالک پر مزید ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے ردعمل میں مختلف ممالک پر مزید تجارتی محصولات عائد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر کوئی ملک امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے سے فائدہ اٹھانے یا اس کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے پہلے سے کہیں زیادہ سخت ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ردعمل، صدر ٹرمپ نے انٹرنیشنل ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک طویل عرصے سے امریکا کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں، اور اب ان کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ بطور صدر نئے ٹیرف نافذ کرنے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری کے پابند نہیں اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے اپنے اختیارات استعمال کریں گے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی قانون کے تحت عائد کیے گئے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا اطلاق اس مقصد کے لیے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عدالت کے مطابق صدر نے ٹیرف نافذ کرتے وقت قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں چین، بھارت، پاکستان اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر اضافی محصولات عائد کیے تھے، جنہیں ان کی معاشی حکمت عملی کا مرکزی حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم عدالت کے حالیہ فیصلے کو اس پالیسی کے لیے ایک اہم دھچکا سمجھا جارہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ٹیرف ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹیرف ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔