نئی دہلی کی اسمبلی کو بم دھماکے سے اُڑانے کی دھمکی؛ سیکیورٹی افسران کی دوڑیں لگ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی ہائی سیکیورٹی علاقے میں واقع اسمبلی ہال بھی محفوظ نہیں رہی جس سے مودی سرکار کی ناقص کارکردگی کھل کر سامنے آگئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی میں سیکیورٹی خدشات اس وقت بڑھ گئے جب دہلی اسمبلی کو بم دھماکے سے اُڑانے کی دھمکی اسپیکر کو ای میل کے ذریعے دی گئی۔
دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے اس دھمکی آمیز ای میل کو انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ شیئر کیا۔
ای میل میں دھمکی دینے والے نے اپنا تعلق خالصتان نیشنل آرمی سے بتایا اور اپنے مطالبات بھی سامنے رکھے۔
جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا گیا اور اسمبلی ہال کی تلاشی لی گئی۔
دہلی اسمبلی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسپیکر وجیندر گپتا نے سیکیورٹی سے مطالبہ کیا کہ دھمکی آمیز ای میلز کے ماخذ کا سراغ لگا کر ذمہ دار عناصر کو شناخت کیا جائے اور اسمبلی و اسپیکر کو لاحق ممکنہ خطرات کا مؤثر تدارک کیا جائے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں نئی دہلی کے مختلف حساس مقامات کو بھی اسی نوعیت کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔
اس سے قبل دارالحکومت کے علاقے دھولا کوان میں واقع آرمی پبلک اسکول اور لودھی روڈ پر قائم ایئر فورس بال بھارتی اسکول کو بھی بم دھماکے کی ای میلز موصول ہوئی تھیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان واقعات کے بعد دارالحکومت میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ سائبر کرائم اور انٹیلی جنس یونٹس دھمکیوں کے پیچھے موجود عناصر تک پہنچنے کے لیے مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں۔
تاحال بھارتی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ادارے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود ای میل بھیجنے والے کا سراغ لگانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نئی دہلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔