وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے۔وزیراعظم آفس کے مطابق دوحہ کے کنگ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قطر کے وزیر مملکت وزارت خارجہ امور ڈاکٹر محمد بن عبد العزیز الخلیفی، قطر میں تعینات پاکستانی سفیر محمد عامر اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔اپنے دورہ قطر کے دوران وزیراعظم امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دو طرفہ ملاقات کریں گے جس میں اقتصادی تعاون، توانائی کی شراکت داری اور عوام سے عوام کے تبادلوں کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔دونوں فریق تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں اشتراک کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔