Express News:
2026-06-02@22:24:19 GMT

مفاہمتی سیاست کے کمزور امکانات

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

پاکستان کی سیاست آگے بڑھنے کے لیے واحد حل مفاہمت کی سیاست کو اختیار کرنے اور تصادم سے گریز کی پالیسی ہے ۔ جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہم ہٹ دھرمی کے ذریعے اپنی جارحانہ سیاست کو آگے بڑھا سکتے ہیں تو یہ درست نہیں ہے ۔ سیاست کا بڑا سبق ہی یہ ہے کہ گھیراؤ جلاؤ کو بنیاد بنا کر ہم اپنی مخالف سیاسی قوتوں کو ختم نہیں کرسکتے۔ آج قومی سیاست کا بیانیہ مفاہمت اور مزاحمت کی سیاست کے درمیان تقسیم ہے۔

اس تقسیم نے قومی سیاست سمیت پورے ریاستی نظام کو متاثر کیا ہے ۔پچھلے کچھ دنوں میں مختلف سیاسی حرکیات کی بنیاد پر یہ تاثر قائم ہوا کہ قومی سیاست ٹکراؤ سے مفاہمت کی جانب بڑھنے کی طرف پیش قدمی کی جا رہی ہے۔لیکن یہ تاثر ایک بار پھر کمزور ہورہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ مفاہمت کی حقیقی سیاست کم جب کہ مفاہمت کے نام پر مفاد پرستی غالب نظر آتی ہے۔

جب کوشش یہ ہوگی کہ جو بھی مفاہمت ہوگی اس میں کچھ نہ کرنے والوں کو ہی سیاسی برتری حاصل ہوگی تو پھر مفاہمت کی سیاست کے امکانات کمزور ہوجاتے ہیں۔یہ ہی کہانی اس وقت پاکستان کی داخلی سیاست میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں سیاسی بات چیت یا مفاہمت کے مقابلے میں ہمیں مفاد پرستی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

جب مفاہمت کی باتیں کرنے والے حلقوں میں سیاست کے نام پر مفاد پرستی کا کھیل غالب ہوگا اور سب ہی ایک دوسرے کو پیچھے کر کے خود اپنی سیاسی برتری چاہتے ہیں تو پھر مفاہمت کی سیاست پس پشت چلی جاتی ہے ۔اسی طرح ایسے بھی لگتا ہے کہ ہمارے یہاں مفاہمت کے نام پر سیاسی ایشوز کو برتری نہیں بلکہ شخصیت پرستی کے کھیل کو برتری حاصل ہے ۔ اس وقت کچھ لوگ بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے اور ’’ قومی حکومت ‘‘ کی باتیں کررہے ہیں ۔ایک طرف قوم مختلف قسم کے بیانیوں میں تقسیم ہے ۔

ایک حکومتی وزیر نے بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی سے مفاہمت پر مبنی پس پردہ بات چیت کا انکشاف کیا اور ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے مفاہمت کا عمل آگے نہیں بڑھ رہا ۔جب کہ دوسری طرف حکومتی وزرا اور ان کے بیشتر سیاسی و صحافتی سطح کے ترجمان مسلسل اس بات کی تردید کررہے ہیں کہ حکومت کی سطح پر کسی بھی طور پر بانی پی ٹی آئی یا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ڈیل یا ڈھیل کی باتوں میں صداقت نہیں۔اسی طرح حکومتی سطح سے یہ بیانات بھی دیے گئے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنیں مفاہمت کی سیاست میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور خود پی ٹی آئی کے سرکردہ راہنما بھی بانی کی بہنوں کی سیاست سے نالاں ہیں۔ اچانک سیاسی منظر نامہ میں کے پی کے سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور ، شیر افضل مروت سمیت بانی پی ٹی آئی یا ان کی بہنوں کی مخالفت میں تیزی آرہی ہے ، یہ بھی ایک خاص کھیل کی نشاندہی کرتا ہے ۔

اسی طرح ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی بیماری پر ان کے خاندان اور فیملی ڈاکٹرز تک رسائی نہ دینے سے بھی پی ٹی آئی میں فریسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔کے پی کے، کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کے خلاف علی امین کا براہ راست سامنے آنا اور الزامات کی سیاست پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں موجود بہت سی خرابیوں کی بھی نشاندہی کررہی ہے ۔ایسے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی میں سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے اور پارٹی راہنماؤں کا پارٹی پر کنٹرول نہ ہونا بھی اس وقت پارٹی کی موجودہ قیادت کی ناکامی کی صورت میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کے پی کے، کے وزیر اعلی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی فورس کمیٹی بنانے پر بھی پارٹی قیادت تقسیم ہے اور اس فیصلہ کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔

دوسری جانب قومی ڈائیلاگ کمیٹی ملک میں ’’ نئی قومی حکومت ‘‘کی تشکیل کا بیانیہ بنانے کی تگ ودو میں مصروف ہے ، ان کے بقول اس وقت سیاسی سطح پر موجود بحران کا حل تمام جماعتوںپر مشتمل قومی حکومت ہے جو سیاسی ٹکراؤ کے ماحول کو کم کرے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے ہی یہ حکومت، قومی حکومت ہے اور اس میں بیشتر سیاسی جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں ۔لیکن دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں قومی سطح پر قومی حکومت کی کہانی نئی نہیں ہے ۔ہم اکثر اس طرز کی حکومت کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں بلکہ اس سے پہلے یہ بیانیہ بھی بنایا گیا تھا کہ اگر ملک میں یک جماعتی نظام کے مقابلے میں مخلوط حکومتیں ہوں گی تو مسائل حل ہوسکیں گے ،مگر ایسا نہیں ہوسکا ۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قومی حکومت ان حالات میں مسائل کا حل ہے تو اس قومی حکومت کی تشکیل کون کرے گا، اس کی پشت پناہی کون کرے گا ، کون اس کا سربراہ ہوگا ، کتنے مدت کی حکومت ہوگی ،کیا ایجنڈا ہوگا اور کن اصلاحات کو بنیاد بنایا جائے گا اور اگر یہ لمبی مدت کی حکومت ہوگی تو اس سے کیا مسائل اور زیادہ نہیں بڑھیں گے ۔

سب سے بڑھ کر ساری سیاسی جماعتوں پر مشتمل اس سیاسی کچھڑی سے ہم کیسے قومی مسائل کا حل تلاش کرسکیں گے اور کیسے یہ بڑے قد کاٹھ کے لوگ ایک دوسرے کو برداشت کریں گے یا یہ بھی سب قومی حکومت کے نام پر نئی سیاسی بندر بانٹ کا حصہ ہوں گے۔یہ تو کہا جاتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی لچک کا مظاہرہ نہیں ہوتا لیکن یہ سوال کوئی بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے مفاہمت کے لیے ان کے پاس کیا لچک ہے ۔حکومت تو سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی جتنی زیادہ سیاسی طور پر دیوار سے لگے گی اور جتنا ان کا اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ ہوگا اتنا ہی ان کے سیاسی حق میں بہتر ہوگا ۔اس لیے موجودہ حالات میں سیاسی بہتری یا پی ٹی آئی کے لیے سیاسی راستے کی تلاش حکومت کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا۔

یہاں یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کی اپنی سیاسی قیادت نے بھی مفاہمت کی سیاست میں اپنے کارڈ بہت زیادہ ہوشیاری کی بنیاد پر نہیں کھیلے اور وہ مفاہمت سے زیادہ ایک دوسرے کے یا حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ دشمنی کا شکار رہے ہیں۔جب آپ حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو آپ کو حکومت سے زیادہ سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور جو کچھ آپ مطالبات کے نام پر مانگ رہے ہوتے ہیں وہ ممکن نہیں ہوتا۔اس کے لیے پہلے جو سیاسی جمود ہے اسے توڑ کر اپنے لیے سیاسی راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔

جب آپ سیاسی راستے کو تلاش کرلیتے ہیں تو پھر باقی کے سیاسی کارڈ بھی کھیلے جاسکتے ہیں ۔اب بھی پی ٹی آئی کی قیادت بالخصوص بانی پی ٹی آئی کو ایک ایسے راستے کا رخ اختیار کرنا ہوگا جو ان کے لیے نئے سیاسی راستوں کی تلاش میں مددکرسکے ۔اس تاثر کی پی ٹی آئی کو نفی کرنا ہوگی کہ وہ سیاسی ڈیڈلاک کا شکار ہے بلکہ اسے حکومت کی اپنی داخلی خامیوں اور تضادات کو نمایاں کرنا ہوگا۔پی ٹی آئی جس کی پارلیمان میں ایک اچھی تعداد ہے پارلیمانی سطح پر بھی موثر کردار ادا نہیںکرسکی اوردوسری طرف احتجاج کی سیاست میں اسے مختلف مراحل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مفاہمت کی سیاست بانی پی ٹی آئی کی سیاست میں پی ٹی آئی کے پی ٹی آئی کی قومی حکومت سے مفاہمت مفاہمت کے کے نام پر حکومت کی سیاست کے ہیں تو رہی ہے ہے اور ہیں کہ رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان