کراچی میں آلائشیں ٹھکانے لگانے کیلئے 99 کلیکشن پوائنٹس بنادیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2026 GMT
کراچی میں آلائشیں ٹھکانے لگانے کےلیے 99 کلیکشن پوائنٹس بنادیے گئے ہیں۔
مینجمنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق نظامانی کا کہنا ہے کہ ضلع کیماڑی میں 11، کورنگی میں 20 اور ملیر میں 9 کلیکشن پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔
اسی طرح ضلع شرقی میں 15، ضلع وسطی میں 18 کلیکشن پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔
ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مطابق ضلع جنوبی میں 14 اور ضلع عربی میں 12 کلیکشن پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔
ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ جی ٹی ایس شرافی گوٹھ، جام چاکرو اور گوند پاس پر 9 خندقیں کھودی گئی ہیں۔
طارق نظامانی کے مطابق آلائشیں اٹھانے کے بعد چونے کا چھڑکاؤ اور عرق گلاب کا اسپرے بھی کیا جائے گا۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا شکایتی مرکز 1128 چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ گئے ہیں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔