نوید قمر نے معاشی اصلاحات پر حکومتی کارکردگی تشویشناک قرار دیدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2026 GMT
تصویر، فیس بک
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نوید قمر نے بجٹ تیاریوں اور معاشی اصلاحات پر حکومتی کارکردگی تشویشناک قرار دے دی۔
حکمران جماعت کی اتحادی پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی پر انحصار خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے عوام پر مسلسل اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، ایف بی آر 10 ماہ میں 680 ارب روپے سے زائد ٹیکس شارٹ فال پورا نہ کرسکا۔
نوید قمر نے یہ بھی کہا کہ حکومت 10 مئی تک بجٹ اسٹریٹیجی پیپر جاری کرنے میں ناکام رہی۔
نمائندہ ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ بجٹ 27-2026 میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کا امکان ہے، مختلف شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس کم کیے جاچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔