فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2026 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور پاکستان ابراہم معاہدوں (ابراہم اکارڈز) میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
Deputy Prime Minister and Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar, held a wide-ranging interactions with his counterparts from different countries during his visit to the United Nations (May 26-28)
Details below@MIshaqDar50 @Asimiahmad @ForeignOfficePk pic.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 29, 2026
عرب نیوز کے مطابق واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان پر ابراہم معاہدوں میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کئی دہائیوں سے واضح اور مستقل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار اور مارکو روبیو ملاقات: امریکی وزیر خارجہ کا علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک قبل از 1967 سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی اور القدس الشریف (مشرقی یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بنتا۔ ان کے بقول یہی پاکستان کی سرکاری اور تاریخی پالیسی ہے، جس پر تمام حکومتیں عمل کرتی رہی ہیں۔
Thank you to #TeamPakistan at the Embassy of Pakistan in Washington DC @PakinUSA, with Ambassador Rizwan Saeed Sheikh @AmbRizSaeed and his dedicated team for their support during my short but highly productive visit to DC.
Grateful as always to @ForeignOfficePk for their… pic.twitter.com/BMmQFDvk9Q
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 29, 2026
انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف اصولی، مستقل اور غیر مبہم ہے، جبکہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت جاری رہے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تعلقات معمول پر لانے کے وسیع تر عمل کے تحت ابراہم معاہدوں میں شمولیت پر غور کریں۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی نیویارک میں چینی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ ملک میں فلسطینی کاز کی وسیع عوامی حمایت پائی جاتی ہے اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق اسحاق ڈار کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی میں کسی تبدیلی کی گنجائش موجود نہیں اور اسلام آباد اپنے روایتی مؤقف پر قائم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابراہم معاہدہ اسحاق ڈار اسرائیل امریکا پاکستان فلسطین نائب وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابراہم معاہدہ اسحاق ڈار اسرائیل امریکا پاکستان فلسطین پاکستان کی اسحاق ڈار
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز