کراچی پورٹ کے قریب 2 بحری جہازوں کے آپس میں ٹکرانے کے واقعے پر وفاقی وزیر کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2026 GMT
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ کے قریب بحری حادثے کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ یہ حادثہ کراچی بندرگاہ کی حدود کے باہر رونما ہوا، جس کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ بندرگاہ پر بر وقت ردِعمل اور مؤثر انتظامات پر عملے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، 2 غیر ملکی بحری جہازوں کے درمیان حادثے میں کوئی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ حادثہ 28 مئی کی شب کراچی پورٹ کے قریب دونوں جہازوں کے ماسٹرز کی غفلت کے باعث پیش آیا، متاثرہ کیبل بچھانے والے جہاز کو کے پی ٹی ٹگس کی مدد سے بحفاظت بندرگاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
کراچی کراچی بندرگاہ پر 2 جہاز ٹکرا گئے، واقعے کی.
جنید انوار کا کہنا ہے کہ بحری حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، حکومت اور متعلقہ ادارے بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
علاوہ ازیں چیئرمین کراچی پورٹ کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ پر بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی پورٹ کے داخلی راستے کے قریب فیئر وے بوائے کے باہر 2 جہاز ایم وی نیوا (متحدہ عرب امارات پرچم بردار) اور ایم وی پاپو (لائبیریا پرچم بردار) جمعرات کو رات تقریباً 8 بجے آپس میں ٹکرا گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کراچی پورٹ کے قریب
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں