نادرا کا نیا 'برتھ نوٹیفکیشن ٹول' متعارف، پیدائش کے فوراً بعد رجسٹریشن کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2026 GMT
ویب ڈیسک : نادرا نے ایک نیا برتھ نوٹیفکیشن ٹول متعارف کروایا ہےجس کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوتے ہی والدین کو خودکار ایس ایم ایس موصول ہوگا اور قانونی شناخت کے عمل کا آغاز فوراً ہو جائے گا۔
نئے نظام کے تحت ہسپتال یا کسی بھی طبی مرکز میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد والدین کے موبائل فون پر اطلاع پہنچے گی۔
اس اقدام سے نہ صرف رجسٹریشن کا عمل آسان ہوگا بلکہ سرکاری دستاویزات کے حصول میں ہونے والی تاخیر بھی کم ہو جائے گی۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نادرا کے ترجمان سید شہابت علی کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستان کے شہری اندراج کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
جہاں شناخت کا عمل پیدائش کے وقت ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ابتدائی رجسٹریشن میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔
حکام کے مطابق یہ نظام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے تعاون سے نافذ کیا گیا ہے اور ایس ایم ایس ایک ابتدائی ریکارڈ کے طور پر کام کرے گا جو یونین کونسل میں پیدائش کی رجسٹریشن میں مدد دے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
رجسٹریشن کا پہلا مرحلہ یونین کونسل سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہے جو تمام قانونی دستاویزات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
والدین یہ عمل شناختی کارڈ، اسپتال کے ریکارڈ یا نادرا کے بھیجے گئے ایس ایم ایس کی مدد سے مکمل کر سکیں گے۔
نادرا نے اس سہولت کو پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کے ذریعے سندھ اور پنجاب میں بھی فعال کر دیا ہے جبکہ بلوچستان میں توسیع جاری ہے۔
خیبرپختونخوا میں اس منصوبے پر عمل درآمد منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔