رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف کی تجاویز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2026 GMT
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.
اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔