برطانیہ میں بچوں سے زیادتی قتل اور ہوم اسکولنگ کے دوران اُن پر تشدد کے متعدد واقعات کے بعد حکومت نے بچوں کے تحفظ سے متعلق بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ اس بل کو قانون بنانے کی تیاریاں بھی مکمل کی جاچکی ہیں۔

بھارتی لابی اس بل کے حوالے سے پاکستان کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی لابی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بار بار کہا گیا کہ ایشیائی اور جنوبی ایشیائی فیملیز میں یہ واقعات زیادہ ہو رہے ہیں جبکہ ان واقعات میں ملوث افراد میں واضح اکثریت پاکستانیوں کی ہے اس لیے ایشیائی کہنے کے بجائے پاکستانی کہا جانا چاہیے۔

یورپ بھر میں مقیم بھارتیوں نے اس حوالے سے شد و مد سے پروپیگنڈا شروع کردیا ہے۔ بھارتی لابی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ بچوں پر تشدد کے واقعات کے حوالے سے ایشیائیوں کا حوالہ دینے کے بجائے پاکستانیوں کا حوالہ دیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ کرائم اینڈ پروٹیکشن بل کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ میں گرم گرم بحث جاری ہے۔ اپوزیشن اس بل کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے جبکہ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ مزید ترامیم تجویز کرنا زائد از ضرورت ہے۔

برطانیہ میں ہوم اسکولنگ کے دوران بچوں اور بچیوں پر تشدد، زیادتی اور قتل کے واقعات کے حوالے سے پائے جانے والے قضے کو گرومنگ اسکینڈل کہا جاتا ہے۔ اب امریکی ارب پتی آجر ایلون مسک بھی اس دلدل میں کود گئے ہیں۔ انہوں نے معصوم بچیوں کے حق میں بولتے ہوئے برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر پر الزام لگایا ہے کہ وہ مجرموں کو بچانے اور معاملات کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایلون مسک نے کہا ہے کہ گرومنگ اسکینڈل کے حوالے سے بہت جھوٹ بولا گیا ہے اور غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔ ایلون مسک کی طرف سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے برطانوی میڈیا نے کہا ہے کہ ایلون مسک کا اس پورے معاملے سے کوئی تعلق نہیں اس لیے انہیں کچھ بھی بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔

کیئر اسٹارمر نے کرائم اینڈ پروٹیکشن بل کے حوالے سے قومی سطح کی نئی انکوائری کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بل جلد از جلد منظور اور نافذ کیا جاسکے۔

ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ برطانیہ میں معصوم بچیوں کو زیادتی کے قتل اور تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو کسی بھی حال میں معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔

بھارت کی انتہا پسند ہندو جماعت شیو سینا کی پارلیمانی رکن پرینکا چترویدی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ برطانیہ کے گرومنگ اسکینڈل میں ملوث گینگز کو ایشیائی نہیں بلکہ پاکستانی کہنا چاہیے۔ یہ لوگ بچوں کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں، اُن سے زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بھارتی لابی برطانیہ میں کے حوالے سے رہے ہیں

پڑھیں:

حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس

سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔  جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال