پی ٹی آئی رہنماؤں کی برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو جمہوریت کو درپیش خطرات پر بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
ایف او ڈی پی کی بانی سفینا فیصل نے پاکستان میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں سیاسی ورکرز، صحافیوں، خواتین، غیر قانونی گرفتاریوں اور ناروا سلوک کا سامنے کرنے والے افراد کی حالت زار بیان کی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں سیاسی بحران اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے برطانوی پارلیمانی اراکین کی جانب سے پارلیمنٹ میں ایک بریفنگ منعقد کی گئی جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کا اہتمام حال ہی میں تشکیل دی جانے والی فرینڈ ڈیموکریٹک پاکستان-یوکے (ایف او ڈی پی) نے کیا۔ بریفنگ کے دوران ایف او ڈی پی نے پاکستان میں جمہوریت کو درپیش خطرات، جبری گمشدگیوں اور فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر خدشات کو اجاگر کیا۔ بریفنگ کی صدارت برطانوی رکن پارلیمنٹ جیمز فرتھ نے کی جس میں تقریباً ایک درجن اراکین نے شرکت کی، ان میں جیریمی کوربن، ناز شاہ، پریت کور اور اینڈریو پیکس علاوہ سیاسی ایکٹیوسٹ، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کے سابق اور مبینہ ریاستی جبر کا شکار عہدیدار شامل تھے۔
ایف او ڈی پی کی بانی سفینا فیصل نے پاکستان میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں سیاسی ورکرز، صحافیوں، خواتین، غیر قانونی گرفتاریوں اور ناروا سلوک کا سامنے کرنے والے افراد کی حالت زار بیان کی۔ سفینا فیصل کا کہنا تھا کہ پرامن مظاہرین کا قتل عام، جبری گمشدگیوں اور فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل تشویشناک ہے جس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بریفنگ میں شریک پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری اور عمران خان کے سابق معاون خصوصی نے 26 نومبر کو ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی ہولناک تفصیلات فراہم کی جس میں انہوں نے 100 افراد کے جان سے جانے کا دعویٰ کیا۔ زلفی بخاری نے بریفنگ میں اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی اور جیل میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کو غیر انسانی قرار دیا تھا۔
سفینا فیصل، جنہیں برطانیہ میں مقیم کاروباری شخصیت سمجھا جاتا ہے، نے کہا کہ ان کے لیے سب سے مشکل مرحلہ پولیس کی جانب سے رہنما پی ٹی آئی ڈاکٹر یاسمین راشد کی گاڑی پر حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تشویش ہے، برطانیہ میں ہمارے ساتھ انسانوں والا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جس کے ہم عادی ہیں، اس لیے جب میں پاکستان میں لوگوں کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ کو دیکھتی ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بریفنگ میں زلفی بخاری نے پی ٹی آئی کی آواز کو دبانے کے لیے ورکرز پر مبینہ ریاستی جبر کیا گیا جس میں رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے لیے ویڈیوز کا بھی استعمال کیا گیا۔ عمران خان کے دور میں مشیر احتساب اور معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بریفنگ میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی کو نشانہ بنانے کے معاملے کو بھی اجاگر کیا، انہوں نے اپنے اہلخانہ کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کی۔
انہوں نے حکومت پاکستان پر الیکشن میں دھاندلی اور عدالتی نظام میں تبدیلی کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سیاسی مخالفت نہیں بلکہ جمہوری روایات کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بریفنگ کے دوران لارڈ ڈینیئل حنان نے پاکستان میں مارشل لا جیسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں جس سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں، وہاں کس طرح سے قانون اور شخصی آزادی کو ختم کیا جاسکتا ہے، ہم 1945 کے بعد سے پاکستان میں جمہوریت کو پروان چڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ بریفنگ کے اختتام پر شرکا نے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی سطح پر تحقیقات پر زور دیا۔ شرکا کے مطالبات میں خلاف ورزیوں پر عہدیداروں کے خلاف پابندیاں، کامن ویلتھ کی انتخابات پر جائزہ رپورٹ کے شائع کرنے اور زیر حراست افراد کا منصفانہ ٹرائل شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خلاف ورزیوں پر نے پاکستان میں کی خلاف ورزیوں ایف او ڈی پی سفینا فیصل بریفنگ میں پی ٹی ا ئی انہوں نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔