Express News:
2026-06-03@04:49:00 GMT

غزہ۔۔۔۔ لہو کی پکار!

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT

عالمی سطح پر دو اہم خبریں موضوع بحث ہیں۔ اول ، امریکا، مصر اور قطر کی زیر نگرانی ہونے والے جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت 19 جنوری سے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی آتش و آہن کا سلسلہ رک گیا۔ معاہدے کی رو سے پہلے مرحلے میں ڈیڑھ ماہ کے لیے فائر بندی کی گئی ہے، اس دوران حماس 33 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی پابند ہے تو بدلے میں اسرائیل بھی 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا۔

ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ سے نکل جائے گی اور کنٹرول واپس حماس کو مل جائے گا۔ دوسری اہم خبر امریکا میں قیادت کی تبدیلی ہے۔ جوبائیڈن حکومت رخصت ہو گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو امریکا کی صدارت کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

سابق امریکی صدر جوبائیڈن کے دور میں شروع ہونے والی اسرائیل فلسطین جنگ انھی کے دور کے آخری دنوں میں جس دو طرفہ معاہدے کے تحت بند ہوئی ہے، اب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اسرائیل کو پابند کریں کہ وہ غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی سے گریز اور جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔

حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر جہاں ایک طرف عالمی رہنماؤں کی جانب سے اظہار اطمینان کیا جا رہا ہے اور اسے اچھی و مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اسرائیل کے ماضی کے کردار کو دیکھتے ہوئے اس کا امن معاہدے پر اخلاص نیت کے ساتھ تادیر عمل درآمد کرنا مشکل ہے جیساکہ معاہدے کے اعلان کے باوجود دوسرے ہی دن فلسطینیوں پر بمباری کرکے 60 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق دنیا میں امن کے قیام اور جنگوں کے خاتمے میں اپنا عالمی کردار ادا کریں۔ ایک زمانہ جانتا ہے کہ امریکا ہی وہ طاقت ہے جو صیہونی ریاست کی ہر طرح سے پشت پناہی کرتی ہے۔ ڈالر سے لے کر اسلحے کی فراہمی تک امریکا کی مددگاری اسرائیل کے حوصلے بلند کرتی ہے اور وہ نہتے مظلوم فلسطینیوں کو آگ و خون میں نہلا دیتا ہے۔ امریکا اسرائیل کو سالانہ بنیادوں پر تقریباً تین ارب ڈالر کی دفاعی، معاشی اور تجارتی امداد دیتا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی امریکا اسرائیل کے حق میں اس کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ نتیجتاً چند کروڑ آبادی کا حامل اسرائیل ایک چھوٹی سی ریاست ہونے کے باوجود ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں پر حاوی ہے، جب کہ مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آج تک ایک موثر اور طاقت ور آواز نہ بن سکے۔ مسلم امہ کے 57 ملکوں کی نمایندہ تنظیم او آئی سی کی کاوشیں صرف زبانی کلامی جمع خرچ سے آگے کچھ نہیں، او آئی سی کے سربراہ اجلاسوں سے لے کر وزرائے خارجہ اجلاسوں تک کے جتنے بھی اعلامیے آج تک جاری ہوئے ان میں امریکا و اسرائیل کے اقدامات اور جارحیت کی مذمت سے آگے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ مسلم امہ کی اسی کمزوری کے باعث اسرائیل کے حوصلے مزید بلند ہوتے جا رہے ہیں۔

اس کے قدم گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ صیہونی حکومت نے گریٹر اسرائیل کا جو نقشہ جاری کیا ہے اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے علاوہ اردن، شام، لبنان اور دیگر عرب ممالک کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ عرب دنیا میں اسرائیل کے اس مذموم ارادے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

سعودی عرب، اردن، قطر اور یو اے ای نے پرزور الفاظ میں اسرائیلی اقدام پر احتجاج کیا ہے۔ اس مرحلے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوں۔ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر باہمی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

بعض مسلم ممالک جو پس پردہ صیہونی ریاست سے اپنی پینگیں بڑھا رہے ہیں وہ ہوش کے ناخن لیں۔ یاد رکھیں کہ ان کی بے حسی، بے بسی، مجرمانہ خاموشی ہی کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل نہتے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ معصوم فلسطینی بچوں، عورتوں، نوجوانوں اور بزرگوں کا لہو مسلم حکمرانوں کی آستینوں پر لگا ہوا ہے جو ان کے بے حس اور مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ رہا ہے اور چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ اگر متحد و منظم ہو کر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے قدم نہ روکے تو مستقبل قریب میں ایک ایک کرکے تمام مسلم ممالک صیہونیوں کی دام غلامی کا شکار ہو جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان