لاہور (نیوز رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف سے بلوچستان ریزیڈنشل کالج لورا لائی کے 50رکنی طلبہ کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی طرف سے بلوچستان کے تمام طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ کا تحفہ دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے بلوچستان کے طلبہ کی درخواست پر سیروسیاحت کے لئے جیب خرچ دینے، ڈبل ڈیکر بس پر لاہور کی سیر کرانے اور بہترین ہوٹل میں لنچ کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی۔ بلوچستان کے طلبہ نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے اقدامات کی تعریف کی اور طلبہ نے پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے بلوچستان ریزیڈنشل کالج کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد بلوچستان آکر طلبہ کو ہونہار سکالرشپ دینا چاہتی ہوں۔ بس چلے تو پنجاب سے زیادہ سکالر شپ اور لیپ ٹاپ بلوچستان کے طلبہ کو دوں۔ بلوچستان کے لوگوں کے لئے دل تڑپتا ہے۔ کافی عرصے سے بلوچستان کے طلبہ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ بلوچستان کے طلبہ کو ای بائیک دینے کا بھی جائز ہ لیا جائے گا۔ بلوچستان کے بچے کسی سے کم نہیں، موافق حالات ملیں تو سب سے آگے بڑھیں گے۔ جتنا پنجاب کے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوں، اتنی ہی فکر بلوچستان اور دیگر صوبوں کے بچوں کے لئے بھی ہے۔ نواز شریف کے 3مرتبہ وزارت عظمیٰ کے دور میں بلوچستان اوپرکی طرف گیا۔ نواز شریف نے بلوچستان پر ہر مرتبہ بھرپور توجہ دی۔ شاید پنجاب سے بھی زیادہ بلوچستان توجہ کا مرکز رہا۔ ہر پاکستانی کی طرح میرے دل میں بھی بلوچستان کے لئے بہت محبت ہے۔ نواب احمد جوگیزئی نے خون سے لکھا پاکستان زندہ باد کا نعرے والا رومال ساتھ دفن کرنے کی وصیت کی۔ بلوچستان پاکستان کے لئے جانیں دینے والے شہداء کی سرزمین ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ دہشت گردوں کا بلوچستان میں فعال ہونا افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ ہم پنجابی اور بلوچی بعد میں ہیں پہلے پاکستانی ہیں۔ پنجاب میں 3لاکھ سے کم آمدن والے 30ہزار بچوں کو ہونہار سکالر شپ دے رہے ہیں۔ سرکاری ہی نہیں اچھی پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلبہ کو پہلی مرتبہ سکالرشپ مل رہا ہے۔ 30ہزار میں سے ایک بھی سکالر شپ سفارش پر نہیں دیا۔ 18ہزار طالبات نے ہونہار سکالرشپ حاصل کیا۔ گڈ گورننس محنت اور کمٹمنٹ کا نام ہے۔ پچھلے دور میں صوبہ رل گیا، 4سال تک پیسہ پتہ نہیں کہاں جاتا رہا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پابندی وقت پر کاربند ہوں، دوسروں کو انتظار کرانا بالکل پسند نہیں۔ وزارت اعلی عہدہ نہیں، خدمت گزاری کا نام ہے۔ بلوچستان کے طلبہ نے کہا کہ پنجاب کے حالات دیکھ رشک آتا ہے، کاش ہمارا صوبہ بھی ایسا ہو۔ پنجاب میں وزیراعلی مریم نواز شریف عوام کیلئے شاندار پراجیکٹ لارہی ہیں۔ وزیراعلی مریم نواز شریف کے پنجاب میں تعلیم حاصل کرنا ہماری خواہش ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے بلوچستان کے طلبہ کے لئے دیگر مصروفیات ترک کردیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خانیوال کچا کھوہ میں بس اور موٹرسائیکل کے تصادم سے میاں، بیوی اور 2 بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو خیبر ایجنسی میں 22 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سکیورٹی فورسز کی ہر میدان میں کامیابی کیلئے دعا کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف  ایم پی اے پنجاب اسمبلی اسامہ لغاری کی رہائش گاہ گئیں۔ اسامہ لغاری کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اسامہ لغاری اور دیگر اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ماں کا رشتہ انمول ہے، بچھڑنے کا دکھ برداشت کرنا دشوار عمل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نوازشریف نے بلوچستان کے طلبہ مریم نواز شریف نواز شریف نے وزیر اعلی نے کہا کہ طلبہ کے طلبہ کو کے لئے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا