پی ٹی آئی نے یکطرفہ طور پر مذاکرات ختم کیے‘سینیٹر عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
اسلام آباد (صباح نیوز) حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئررہنماسینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئیٌ نے یکطرفہ طور پر اچانک مذاکرات ختم کیے، یہ کمیٹی ہی نہیں خود پی ٹی آئی کے لیے حیران کن تھا، اڈیالہ جیل سے بیرسٹر گوہر نے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا بیرسٹر گوہر نے کہا بانی پی ٹی آئی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے مذاکرات کی گنجائش ختم، شام کو یہ جواز پیش کیا کہ صاحبزادہ حامد رضا کے گھر پر پولیس گرفتاری کے لیے گئی،
صاحبزادہ حامد رضا نے مذاکرات پر ’’ایبسولیٹلی ناٹ‘‘کے الفاظ استعمال کیے۔ ان کا کہنا تھا طے شدہ اعلامیے کے مطابق7دن سے قبل نہ کوئی جواب دیں گے نہ کمیشن پر اعلان کریں گے، ہم تماشہ بننے کو تیار نہیں، 28تاریخ کو اجلاس کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کمیشن کا جواب مذاکراتی نشست میں دینا ہے، وہیں دیں گے، ہم دھمکی کا یا بائیکاٹ کا ایسے جواب نہیں دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف دھمکی، دوسری طرف سول نافرمانی کے ساتھ ٹویٹ بھی کی گئیں، وزیراعظم کو گالیاں تک دیں، ہم 28جنوری سے پہلے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔عرفان صدیقی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت پی ٹی آئی کے دیگر مطالبات کا جواب دینے کے لیے حکومتی کمیٹی نے 80 فیصد کام مکمل کر لیا ہے، باقی 20 فیصد کام 28 سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا، حکومت نے اپنا جواب قوائد و ضوابط کے مطابق کمیٹی کو پیش کر دینا ہے وہ دیکھے گی کہ اس پر کیا فیصلہ کرنا ہے۔ عرفان صدیقی نے بتایا کہ کمیٹی کو اس اعلان کی کوئی خبر نہیں تھی، پی ٹی آئی کا مذاکرات کے حوالے سے بچگانہ، طفلانہ اور غیر سنجیدہ رویہ رہا ہے، یہ لوگ زگ ذیگ طریقے سے کھیلتے رہے ہیں، ہم نہیں سمجھتے ہیں کہ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ مذاکرات عمل کا سلسلہ جسے وہ خود ختم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، اسے ہم دوبارہ سے شروع کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی پی ٹی آئی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔