گلگت بلتستان میں سراپا احتجاج عوامی ایکشن کمیٹی کے 3 بڑے مطالبات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
گلگت بلتستان میں احتجاج کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی نے 19 نکاتی ایجنڈا پیش کردیا ہے۔
گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی نے گزشتہ روز گلگت اتحاد چوک میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا، جس میں 19 نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: سول سوسائٹی نے گندم کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مسترد کر دیا، تحریک کا اعلان
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما احسان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس وقت عوام کو سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی شدید قلت ہے، خاص طور پر گلگت، ہنزہ اور اسکردو جیسے علاقوں میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم مسئلہ زمینوں کی ملکیت کا ہے، جہاں بنجر زمین، ندی نالے اور پہاڑ حکومت نے اپنی ملکیت ظاہر کیے ہیں، حالانکہ یہ زمینیں عوام کی ہیں، ان زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا تیسرا اہم مطالبہ معدنیات سے متعلق ہے، جہاں مقامی لوگوں کی مرضی کے بغیر مختلف کمپنیوں کو لیز دی جا رہی ہے۔
احسان ایڈوکیٹ نے نوجوانوں کی بے روزگاری کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ سوست پورٹ پر چھوٹے کاروبار کرنے والوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، جس سے صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ ہورہا ہے جبکہ گلگت بلتستان کے نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں اور ان کے لیے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حکومت کو ’پی اے پی او‘ واپس لینے کے لیے ڈیڈ لائن
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی طاقت سے 27 جنوری 2024 کو گندم سبسڈی کو بحال کرایا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی مزاحمت کے ذریعے ہی مطالبات منوائے جاسکتے ہیں، لیکن موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔
انہوں نے کہا آل پارٹیز کانفرنس کے بعد گلگت بلتستان بھر میں دوبارہ احتجاج کی کال دی جائے گی اور عوامی طاقت کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان زمین زمینی حقوق عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان ندی نالے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان ندی نالے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔