Daily Ausaf:
2026-07-24@13:05:18 GMT

بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی؟ اہم خبر آ گئی

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT

بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ایک ماہ کے لئے کمی ہونے کا امکان ہے۔

سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی نے قیمت میں کمی کیلئے نیپرا کو درخواست دی ہے جس پر نیپرا کل سماعت کرے گا۔

ایک ماہ کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 3 پیسے تک کمی کا امکان ہے، دسمبر کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد درخواست میں میں کمی مانگی گئی ہے۔

نیپرا کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ دسمبر میں ڈسکوز کو 7 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، درخواست میں کہاگیا کہ دسمبر میں فی یونٹ بجلی کی فیول لاگت 9 روپے 60 پیسے رہی۔

سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی نے نیپرا کو درخواست میں بتایا کہ دسمبر کے مہینے میں لاگت کا تخمینہ 10 روپے 63 پیسے فی یونٹ تھا۔ اتھارٹی کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا کہ ایک ماہ میں پانی سے بجلی کی پیداوار 22.

80 فیصد رہی۔

مقامی کوئلے سے ماہ دسمبر میں بجلی کی پیداوار 10.06 فیصد رہی، درآمدی کوئلے سے 1.59 فیصد، فرنس آئل سے 0.03 فیصد پیداوار رہی۔ مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار12.31 فیصد، ایل این جی سے 20.70 فیصد رہی جبکہ گزشتہ ماہ نیو کلیئر ذرائع سے بجلی کی پیداوار 26.48 فیصد رہی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بجلی کی پیداوار درخواست میں بجلی کی فی فیصد رہی فی یونٹ

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ