اسلام آباد+ڈی جی خان  (خبرنگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) سکیورٹی فورسز نے 30 اور 31 جنوری کو خیبر پی کے  میں مختلف آپریشنز کے دوران 10 خوارجیوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس کی بنیادوں پر آپریشن کیا گیا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ اسی دوران شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں، دتہ خیل، حسن خیل، غلام خان اور میر علی میں 4 مختلف جھڑپیں ہوئیں۔ ان میں سکیورٹی فورسز نے 6 مزید دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ تمام ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ یہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ علاقے میں کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، پاک فوج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری  نے  خیبر پختون خوا میں مختلف کاروائیوں کے دوران 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر مملکت نے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا  پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک فتنتہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے  کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف مختلف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان آپریشنز میں 10 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے، ہم ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپی کے میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔ خوارجی دہشت گرد دھرتی کا بوجھ ہیں اور قوم کی حمایت سے ان کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے خوارجی دہشت گردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں تھانہ وہوا کی جھنگی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 15 سے 20 دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں مختلف اطراف سے حملہ کیا۔ راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینڈ سمیت جدید اسلحہ استعمال کیا گیا۔ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی میں دہشت گرد فرار ہو گئے۔ پولیس کی ٹیموں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
 اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، افغان طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کے بیٹے کی  خوارج  کے ساتھ ہلاکت اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔ ذرائع کے مطابق 30 جنوری 2025 کو افغان صوبہ بادغیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کے بیٹے بدرالدین عرف یوسف سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں کلاچی، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہلاک ہونے والے 4 دہشت گردوں میں شامل تھا، وہ فتنہ الخوارج (FAK) کے دہشت گردوں کے ساتھ مارا گیا۔ افغان نائب گورنر کے بیٹے یوسف کی ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے ساتھ ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ افغانستان کھلم کھلا پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپس کو ٹریننگ، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ کھلی جارحیت ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپس نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ کابل کی حکومت ان گروہوں کو تحفظ دے کر کھلی جنگ چلا رہی ہے۔ افغانستان نے ہمیشہ دہشت گردوں کو پناہ دی اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ افغان طالبان کے روابط اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جب بھی افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو استعمال کرے گا، پاکستان ان کا بھرپور جواب دے گا، افغانستان کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ افغانستان کا دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی