کینیڈا اور چین کے درمیان تعاون دوطرفہ مفاد میں مددگار ہے،کینیڈا کے کاروباری حلقے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
بیجنگ :ٹورنٹو میں واقع چین۔کینیڈا تجارتی کونسل 1978 میں قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد کینیڈا اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ تاحال، یہ کونسل کینیڈا کے متعدد مقامات کے علاوہ چین کے شہروں بیجنگ اور شنگھائی میں اپنے نمائندہ دفاتر رکھتی ہے۔
اس کے 300 سے زیادہ رکن کاروباری ادارے ہیں۔ 2024 میں، چین۔کینیڈا تجارتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ دو سالہ رپورٹ کاروباری سروے’’ میں ذکر کیا گیا کہ کینیڈا کے لیے، ایک ایسا ملک جو بین الاقوامی تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، چین میں مارکیٹ کے مواقع کو محفوظ بنانا ‘‘اسٹریٹجک اہمیت” کا حامل ہے اور چین “کینیڈا کے لیے اپنے اقتصادی مفادات کو متنوع بنانے اور چیلنجوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کے لیے ایک کلیدی بین الاقوامی منڈی ہے۔” چین-کینیڈا تجارتی کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر بیجان احمدی نے کہا کہ کینیڈا کی کل جی ڈی پی کا تقریباً دو تہائی حصہ تجارت سے متعلق ہے۔ اس لیے، چین کے ساتھ پیداواری اور عملی تعلقات قائم کرنا، اور فریقین کے درمیان زیادہ اور بہتر تجارتی کاروبار کرنا، کینیڈا کے قومی مفادات کے مطابق ہے اور کینیڈا کی خوشحالی کے لیے فائدہ مند ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کینیڈا کے کے لیے چین کے
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت