قلات میں دہشت گردوں کے حملے میں 18 اہلکار شہید ،23دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
٭ایسی قربانیاں ہمارے بہادر فوجیوں کے ارادے کو مزید مضبوط کریں گی (آئی ایس پی آر)دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے ، صدر ،وزیراعظم
٭پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے ، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی قلات میں دہشت گر دانہ حملے کی مذمت ، شہداء کو خراج عقیدت
(جرأت نیوز) پاک فوج نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں دہشتگردوں کے حملے میں اٹھارہ سکیورٹی اہلکارشہید ہوگئے ہیں،دوکارروائیوں کے دور ان23دہشتگرد مارے گئے جبکہ صدر مملکت آصف علی زر داری ، وزیر اعظم شہبازشریف ، قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے ضلع قلات میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت اور18سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، دہشت گرد بلوچستان کے امن و ترقی کے دشمن ہیں، دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے ۔ ہفتہ کو آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق 31جنوری اور یکم فروری کی درمیانی شب دہشت گردوں نے منگوچر کے قریب سڑکیں بلاک کر ناشروع کردیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ دشمن طاقتوں کے کہنے پر دہشت گردوں کے اس ایکشن کا مقصد بلوچستان کے پر امن ماحول کو خراب کر نا اوربنیادی طورپر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانا تھا ۔ معلومات حاصل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچنے کی کوشش کررہے تھے تاکہ دہشت گردوں کے اس منصوبے ناکام بنایا جائے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دور ان بارہ دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے تاہم آپریشن کے دور ان اٹھارہ فوجی اہلکاروں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام نوش کیا ۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ملک کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، آئی ایس پی آر کے مطابق واقعہ کے بعد علاقے میں آپریشن کیا گیا تاکہ دہشت گردی کے سہولت کاروں کو گرفتارکیا جاسکے ۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ قلات کے علاقے منگوچر میں ہونے والی کارروائی کے تناظر میں ہرنائی میں کلیئرنس آپریشن کیا گیا جس میں مزید 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے مرتکب، سہولت کار، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،بیان میں کہاگیاکہ پاکستان کے سکیورٹی فورسز قوم کی حمایت سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج بلوچستان میں استحکام اورترقی کیلئے کام کرتی رہے گی اور ایسی قربانیاں ہمارے بہا در فوجیوں کے ارادے کو مزید مضبوط کریں گی ۔ دریں اثناء صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع قلات میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت اور18سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں،ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی خاطر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ضلع قلات میں دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 18 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایف سی بلوچستان کے بہادر سپوتوں نے وطن عزیز کے امن کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں، شہید ہونے والے جوانوں کی بہادری پر فخر ہے اور شہدا قوم کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے 18 بہادر سپوت وطن پر قربان ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے اور شہادت کا بلند رتبہ پایا، 18 جوانوں کی عظیم قربانی کو قوم سلام پیش کرتی ہے ۔دریں اثناء قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے ضلع قلات میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران 18 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے دہشت گردوں کے خلاف بروقت کاروائی کرنے اور جامِ شہادت نوش کرنے پر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور کارروائی کے دوران 12 دہشت گرد جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو سراہا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔