جوڈیشل کمیشن :عدالت عظمیٰ میں 6 ججز تعینات کرنے کی منظوری(جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے اجلاس کا بائیکاٹ کر د یا)
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
اسلام آباد /کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن / صباح نیوز /اسٹاف رپورٹر) جوڈیشل کمیشن نے عدالت عظمیٰ میں 6 ججز کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔عدالت عظمیٰ نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ کمیشن نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کو عدالت عظمیٰ کا جج بنانے کی منظوری دی۔ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ شفیع صدیقی، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑ اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اشتیاق ابراہیم کو عدالت عظمیٰ کے ججز بنانے کی منظوری دی گئی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ جج صلاح الدین پنور اور پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس شکیل احمد کو بھی عدالت عظمیٰ کے ججز بنانے کی منظوری دی گئی۔ذرائع نے بتایاکہ اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم پر فیصلے تک اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس اعتراض پر ووٹنگ ہوئی اور اکثریت سے فیصلہ ہوا کہ اجلاس جاری رکھا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو عدالت عظمیٰ میں قائم مقام جج لگانے کی منظوری دی گئی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا تقرر آرٹیکل181کے تحت کی گیا۔ذرائع کے مطابق عدالت عظمیٰ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کا بائیکاٹ کیا، ان کے علاوہ بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ذرائع نے بتایاکہ لاہور ہائی کورٹ سے عدالت عظمیٰ میں جج تعینات کرنے کا معاملہ مؤخر کردیا گیا۔ آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کے تحت پیرکو26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا برادری کی طرف سے ملک بھرمیں شدیداحتجاج کیاگیا‘وکلاکی ایک بڑی تعداد عدالت عظمیٰ پہنچی ۔اس دوران آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کے عہدیداران نیعدالت عظمیٰ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کویکسرمستردکردیا ۔احتجاجی وکلا نے عدالت عظمیٰ کی طرف جانے کی کوشش کی، ریڈ زون میں داخلہ نہ ملنے پر وکلا نے سری نگر ہائی وے پر احتجاج ریکارڈ کرایا، اس دوران پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔سرینا چوک میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور ہاتھا پائی بھی ہوئی‘ احتجاجی مظاہرین کو ریڈ زون میں داخلے سے روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ قیدی وینز بھی عدالت عظمیٰ کے باہر موجود ہیں۔وکلا کے احتجاج کے باعث شہر اقتدار کے باسیوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے‘ دفتر خارجہ سمیت ریڈ زون میں موجود دفاتر جانے والے شہری بھی رل گئے۔ ادھر وکیل رہنما منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ ہمارے احتجاج کو روکنے کے لیے ناکے لگائے گئے، پرامن احتجاج ہمارا حق ہے، پولیس نے اسلام آباد میں ریڈ زون کو کنٹینر لگا کر بند کردیا، ہم جوڈیشل کمیشن کو بھی باور کروانا چاہتے ہیں کہ موجودہ نظام سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ کراچی بار کے وکلا نے اسلام آباد کے وکلا پر لاٹھی چارج اور ہائی کورٹ بار کے اعلامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ وکلا نے ایم اے جناح روڈ بند کردیا۔ وکلا نے اسلام آباد میں وکلا پر لاٹھی چارج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ بار کے اعلامیہ کے خلاف وکلا نے احتجاج کیا۔ وکلا نے سندھ ہائی کورٹ بار روم میں نعرے بازی کی۔ صدر سندھ ہائی کورٹ بار نے وکلا کو بار روم سے باہر احتجاج کی ہدایت کی۔ وکلا کا کہنا تھا کہ صدر سندھ ہائی کورٹ بار نے کابینہ سے مشاورت کے بغیر اعلامیہ جاری کیا۔
اسلام آباد: وکلا سری نگر ہائی وے پر ججز تعیناتیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ہائی کورٹ بار جوڈیشل کمیشن کی منظوری دی عدالت عظمی احتجاج کی کے مطابق اجلاس کا چیف جسٹس کے خلاف ریڈ زون وکلا نے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں