وزیراعظم سے سی ای او ڈی پی ورلڈ کی ملاقات، منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم کی دبئی میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وفد کے پاکستان کے حالیہ کامیاب دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ڈی پی ورلڈ کے درمیان بامعنی سرمایہ کاری کے اشتراک کا باعث بنا، جو خوش آئند امر ہے۔
قدیم اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ پاکستان ریلوے اکیڈمی والٹن
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں و تعاون سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں ڈی پی ورلڈ کی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے تجارت اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے ساتھ دستخط کیے گئے بین الحکومتی معاہدوں (IGAs) کے تحت منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
"شاہین، نسیم کو ٹیم سے باہر کرو" سابق کرکٹر کا مطالبہ
انہوں نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے پاکستان نے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو مزید سہل، شفافیت کو فروغ اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنایا ہے، جس سے پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بن گیا ہے۔
وزیراعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وژن اور کاروباری حکمت عملی کو سراہا، جو پاکستان کی معاشی امنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع ڈی پی ورلڈ کے لیے اپنے آپریشنز کو بڑھانے اور پاکستان میں جبل علی بندرگاہ جیسے کامیاب منصوبوں کی تقلید کا ایک مثالی موقع فراہم کرتا ہے۔
لیبیا کشتی حادثے میں 7 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق
ڈی پی ورلڈ گروپ کے چیئرمین نے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے میں حکومت پاکستان کی مسلسل حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ پاکستانی مصنوعات کی متحدہ عرب امارت میں برآمدات کے فروغ کے لیے ڈی پی ورلڈ نے ایک خصوصی نمائشی ہال مختص کیا ہے جس کی بدولت اماراتی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور انکی تشہیر کے مواقع میسر ہونگے.
پنجاب حکومت کا آرگنائزڈ کرائم کے خاتمے کیلئے بڑا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے ڈی پی ورلڈ کے عزم کا اعادہ منصوبوں کی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں