راولپنڈی (اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) سیکورٹی فورسز نے ہفتہ کوصوبہ خیبر پختونخوا میں2آپریشنز کے دوران 15خوارج دہشت گرد کو جہنم واصل کر دیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق خوارج کی
موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ہتھالہ میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران بہادر اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا اور اس کے نتیجے میں 9خوارج بشمول خارجی گروپ کے لیڈر فرمان عرف ثاقب، خارجی امان اللہ عرف طوری، خارجی سعی عرف لیاقت اور خارجی بلال کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ مارے گئے دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ کے علاقے میں کیے گئے ایک اور آپریشن میں سیکورٹی فورسز نے 6خوارج دہشت گردوںکو بھی جہنم واصل کر دیا،تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ محمد حسان اشرف ساکن ضلع لاہور اپنے دستوں کی فرنٹ سے قیادت کرتے ہوئے انتہائی بہادری سے لڑے اور اپنے تین جوانوں کے ساتھ شہادت کو گلے لگا لیا۔ جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں میں نائب صوبیدار محمد بلال رہائشی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، سپاہی فرحت اللہ رہائشی ضلع لکی مروت اور سپاہی ہمت خان ضلع مہمند کا رہائشی شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی خارجی کے خاتمہ کے لیے کلیئرنس آپریشن کیے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔اپنے بیان میں وزیر اعظم نے آپریشنز کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے لیفٹیننٹ محمد حسان اشرف، نائب صوبیدار محمد بلال، سپاہی فرحت اللہ اور سپاہی ہمت خان کو خراج عقیدت کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے، دہشتگردی کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، دہشتگردوں کے ملک کے امن کو خراب کرنے کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے،صدر مملکت آصف علی زرداری نے انٹیلی جنس پر مبنی کاروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے پر سکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا اور صدر مملکت کا کارروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے لیفٹیننٹ محمد حسان اشرف شہید سمیت 4 جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ قوم اپنے بہادر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی، صدر مملکت نے پاک فوج کے بہادر شہداء کی بہادری اور جذبہ حب الوطنی کو سراہا اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری رہیں گی، دہشت گرد عناصر کے خاتمے، ملکی دفاع کیلیے ہمارا عزم غیر متزلزل رہے گا۔
نیویارک(خبر ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان بدستور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مدد کررہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملے بڑھ رہے
ہیں۔اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی افزائش اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی کاوشوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی جس میں دہشت گردی، افغانستان کے کرداراور پاکستانی سیکورٹی فورسز کی اعلی کارکردگی کا ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، یہ گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں، افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے، دہشت گرد گروپوں کے اثرات مزید بڑھ گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش کی افغانستان میں بڑھتی کارروائیاں اور افغان طالبان کی معاونت خطے کیلیے بڑا خطرہ ہے، پاکستان میں اپنی کارروائیاں پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے، داعش خراسان کو ایک اہم دھچکا لگا، پاکستانی سیکورٹی فورسز نے داعش خراسان کی بیرونی آپریشنز برانچ کو ناکام بنادیا۔اس میں کہا گیا کہ پاکستان سکیورٹی فورسز نے داعش کے کے اہم دہشتگردوں کو گرفتار بھی کیا، ان میں عادل پنجشیری، ابو منذر اور کاکا یونس شامل تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فتنہ الخوارج نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا جس سے پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہوا، ان حملوں کی تعداد 600 سے زائد ہے اور ان حملوں کیلیے فتنہ الخوراج نے افغان سرزمین کا استعمال کیا ہے، افغان طالبان نے فتنہ الخوارج کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مالی معاونت بھی جاری رکھی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس امداد کے نتیجے میں فتنہ الخوارج نے افغانستان کے مختلف صوبوں میں نئے تربیتی کیمپ قائم کیے اور طالبان کے اندر اپنے حامیوں کی بھرتی کی، افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج، افغان طالبان اور القاعدہ جیسے گروہ اب نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھا رہے ہیں، ان گروپوں کے درمیان تعلقات میں ایک خاص نوعیت کی ہم آہنگی اور تعاون نظر آ رہا ہے جس سے ان کی طاقت اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس بڑھتے ہوئے اتحاد سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے، یہ دونوں گروہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی اور فوجی تعاون کر رہے ہیں بلکہ مشترکہ طور پر دہشت گردانہ کارروائیاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے پاکستان کے جنوبی علاقوں میں کئی بڑے حملے کیے ہیں اور اپنی صفوں میں خواتین کو بھی شامل کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مجید بریگیڈ نے بھی اس دوران اہم حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ان کے روابط ایسٹ ترکستان اسلامی موومنٹ، ترکستان اسلامی پارٹی، فتنتہ الخوراج اور داعش کے ساتھ برقرار ہیں، یہ گروہ افغانستان میں اپنے آپریشنز کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔اس میں کہا گیا کہ ان کے آپس میں تعاون سے بلوچستان میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے، بلوچستان لبریشن آرمی نے ان گروپوں کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات قائم کیے ہیں جو ان کی کارروائیوں کو ایک نیا رخ دینے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، عالمی برادری کو اس بحران کے حل کے لیے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز کی افغانستان میں میں کہا گیا کہ فتنہ الخوارج افغان طالبان صدر مملکت کرنے والے فورسز نے کے دوران کے مطابق نے افغان ہے رپورٹ رہے ہیں کے ساتھ نے کہا کے لیے خطے کی

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان