میں نے نیتن یاہو سے کہا کہ تم جو چاہو کرو، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ معاہدہ اسرائیل پر منحصر ہے تاہم یہ کارروائی مجھ سے مشاورت کے بعد کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے حماس کے ساتھ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے بارے میں گفتگو میں کہا ہے کہ میں نے نیتن یاہو سے کہا، تم جو چاہو کرو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اعلان کیا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ملک میں بحران کے حل کے لیے روس امریکہ مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ یوکرین امن معاہدے پر مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات بہت جلد ہوگی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پوٹن جنگ جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ معاہدہ اسرائیل پر منحصر ہے تاہم یہ کارروائی مجھ سے مشاورت کے بعد کی جائے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں، امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ میں نے نیتن یاہو سے کہا، جو چاہو کرو۔ ٹرمپ کے بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب انہوں نے گزشتہ ہفتے حماس کو خبردار کیا تھا کہ اگر ہفتے تک تمام مغویوں کو رہا نہ کیا گیا تو غزہ جہنم بنا دونگا، جبکہ حماس نے قیدیوں کے تبادلے میں صرف تین اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔