مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
مجمع المدارس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اپنے خطاب میں کہا کہ مجمع المدارس اپنے آغاز سے ہی انسانی زندگی کے تمام مراحل میں اسلام کی جامعیت کی تشریح اور ترویج کیساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مستحکم کرنے کے دو اہم ترین فریضے سرانجام دے رہا ہے اور ملکِ عزیز میں ایک تعلیمی انقلاب کی بنیاد بن رہا ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس
اسلام ٹائمز۔ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس حوزہ علمیہ جامعہ العروة الوثقیٰ لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ اجلاس میں ملک بھر سے ملحق مراکز کے سربراہان کے علاوہ مجلس شوریٰ کے اراکین بھی شامل تھے۔ علامہ سید جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجمع المدارس اپنے آغاز سے ہی انسانی زندگی کے تمام مراحل میں اسلام کی جامعیت کی تشریح اور ترویج کیساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مستحکم کرنے کے دو اہم ترین فریضے سرانجام دے رہا ہے اور ملکِ عزیز میں ایک تعلیمی انقلاب کی بنیاد بن رہا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔