کراچی میں راہ چلتی خاتون سے لوٹ مار کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
راہ گیر خاتون کو ایک موٹر سائیکل سوار ملزم لوٹنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم خاتون نے اپنے حواس سنبھالتے ہوئے بھاگ کر خود کو ملزم کے ارادوں سے بچا لیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں راہ چلتی خاتون سے لوٹ مار کی کوشش کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں ایک جانب ڈمپرز اور ٹرک کی زدمیں آکر شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں، تو دوسری جانب پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بے خوف ڈاکوؤں نے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ٹریفک حادثات اور ڈکیتی کی وارادتوں کے دوران شہریوں کی جان چلے جانا شہر قائد کے باسیوں کیلئے معمول بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ اب سرعام راہ چلتی خواتین سے پرس، زیورات یا موبائل چھیننے کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ تازہ واقعہ کراچی کے علاقے ملیر میں ماڈل کالونی شیٹ نمبر 2 میں پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل سوار نے راہ چلتی خاتون سے لوٹ مار کرنے کی کوشش کی، تاہم ملزم واردات میں ناکام رہا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہ گیر خاتون کو ایک موٹر سائیکل سوار ملزم لوٹنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم خاتون نے اپنے حواس سنبھالتے ہوئے بھاگ کر خود کو ملزم کے ارادوں سے بچا لیا۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس موٹر سائیکل سوار شخص کو فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ چالاک ملزم نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے ماسک پہنا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے تاحال رابطہ نہیں کیا ہے، اطراف کی دیگر سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کرکے ملزم کی گرفتاری کی کوشش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سوار کی کوشش
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔