UrduPoint:
2026-07-24@15:39:41 GMT

بارکھان میں بس پر حملے میں سات پنجابی مسافر ہلاک، حکام

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT

بارکھان میں بس پر حملے میں سات پنجابی مسافر ہلاک، حکام

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 فروری 2025ء) بلوچستان میں حکام کے مطابق مسلح افراد نےضلع بارکھان میں ایک مسافر بس پر حملے میں شناخت کے بعد سات غیر مقامی مسافروں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ افغانستان اور ایران کی سرحدوں سے متصل غریب لیکن معدنیات سے مالا مال بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کئی دہائیوں سے فرقہ وارانہ، نسلی اور علیحدگی پسند تشدد کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

اس شورش زدہ صوبے میں سکیورٹی فورسز اور نسلی گروہوں پر حملوں میں گزشتہ چند سالوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، حملہ آور خاص طور پر ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے اور خوشحال صوبے اور فوج کے لیے بھرتی کا ایک بڑا مرکز سمجھےجانے والے صوبے پنجاب کے مزدوروں کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔

(جاری ہے)

بارکھان کے ایک سینئر سرکاری اہلکار سعادت حسین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات دیر گئے ایک بس پر حملہ کیا، جو بلوچستان سے پنجاب کے ساتھ صوبائی سرحد کے قریب ایک ہائی وے پر سفر کر رہی تھی۔

مسلح افراد بس میں سوار ہوئے اور مسافروں سے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا۔

حسین نے کہا، ''صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو دہشت گردوں نے اتار کر ہلاک کر دیا۔ انہیں قطار میں کھڑا کر کے گولی مار ی گئی۔‘‘ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) خطے میں سب سے زیادہ فعال عسکریت پسند گروپ ہے، جس نے جنوری میں ایک بم دھماکے میں چھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان بلوچ علیحدگی پسندوں نے گزشتہ سال مربوط حملوں میں کم از کم 39 افراد کو ہلاک کیا، جس میں بڑی تعداد میں نسلی پنجابیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ نومبر میں، بی ایل اے نے کوئٹہ کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی، جس میں 14 فوجیوں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ مسلح گروپ ماضی میں بھی صوبے میں غیر ملکی خاص طور پر چین مالی اعانت سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

علحیدگی پسند بلوچ مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر پاکستان کے اس غریب ترین حصے کے رہائشیوں کے استحصال کا الزام لگاتے ہیں۔

اے ایف پی اعدادو شمار کے مطابق رواں برس یکم جنوری سے ریاست کے خلاف لڑنے والے مسلح گروپوں کے تشدد میں کم از کم 67 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز کے ارکان کی اکثریت شامل ہے۔ اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فارریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کے لیے دہشت گردانہ حملوں کے اعتبار سے ایک دہائی میں سب سے زیادہ مہلک رہا، جس میں 1,600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں سکیورٹی فورسز کے 685 اراکین شامل تھے۔

تشدد کی یہ کاروائیاں زیادہ تر شمال اور جنوب میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں تک محدود ہے، بڑے شہروں میں بہت کم حملے ہوتے ہیں۔ بارکھان میں دہشت گردی کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کا پہلا میچ آج بروز بدھ کراچی میں کھیلا جا رہا ہے جس میں آٹھ بین الاقوامی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور وہ میچوں کے لیے راولپنڈی، کراچی اور لاہور کا دورہ کریں گی، جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ش ر⁄ ر ب (اے ایف پی)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں سکیورٹی فورسز

پڑھیں:

یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک

مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں تل میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان ہونے والی مسلح جھڑپ میں اسرائیلی فوج کا افسر مارا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اسرائیلی آبادکار فوج سے پیشگی رابطے یا اجازت کے بغیر گاؤں تل میں داخل ہوگئے جہاں کشیدگی کے دوران فلسطینیوں سے جھڑپ شروع ہوگئی۔

ترجمان اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ تصادم کے دوران ایک فلسطینی شہری نے وہاں موجود سویلین سیکیورٹی اہلکار سے اسالٹ رائفل چھین لی اور اسی ہتھیار سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میجر یووال ایزرا ہلاک ہوگئے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افسر کی شناخت 27 سالہ میجر یووال ایزرا کے نام سے ہوئی جو 282ویں آرٹلری رجمنٹ کی 411ویں بٹالین میں بیٹری کمانڈر تھے اور ان کا تعلق ہرزلیہ سے تھا۔

اسرائیلی فوج نے واقعے میں مارے جانے والے دوسرے اسرائیلی کی بھی تصدیق کرتے ہوئے اسے فوج کا شہید قرار دیا ہے جس کی شناخت ماسٹر سارجنٹ 32 سالہ ریزروسٹ بنایاہو میلیٹ کے نام سے ہوئی ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد دو ہوگئی جبکہ 4 فلسطینی بھی جان سے گئے۔

اس جھڑپ میں مجموعی طور پر دو اسرائیلی اور چار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج، فلسطینی مسلح گروپوں اور آبادکاروں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک
  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 12 خوارج ہلاک، 15 اہلکار و سرکاری ملازم شہید
  • ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
  • ٹانک ،چیک پوسٹ پر حملہ ، 12 فوجیوں سمیت 15 شہید،12 خوارجی ہلاک
  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک