ملک غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں آ کر بحران میں گھرا ہوا ہے، محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
فائل فوٹو۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں آ کر بحران میں گھرا ہوا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک تھا، غلط حکمرانوں کے ہاتھ آگیا۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ سب کچھ آئین کے مطابق ہوگا، تب ہی پاکستان ترقی کی طرف آسکتا ہے، دیر سے آئے درست آئے، ہم سب ایک پلیٹ فارم پر آگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آئین کی بالادستی نہیں ہوگی ملک نہیں چل سکتا، 20 کروڑ روپے لے کر پارلیمنٹ میں بھیجا جاتا ہے، آج پاکستان میں جو آدمی اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے وہ وفادار ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو سچ بولتا ہے، جھوٹ بولنے سے منع کرتا ہے وہ غدار ہے، پورا ملک جانتا ہے انتخابات پی ٹی آئی جیت چکی ہے۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہم کسی کی خوشامد پر یقین نہیں رکھتے، اس وقت عوام کنفیوژ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔