کنن پوش پورہ کے متاثرین 34 سال گزرنے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں، مقررین سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں سانحہ کنن پوشپورہ کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کی صدارت سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے کی۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں سانحہ کنن پوشپورہ کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کی صدارت سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے کی۔ ذرائع کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کنن پوشپورہ میں اجتماعی عصمت دری کے واقعے سے پوری انسانیت شرمسار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرمناک اور کربناک واقعہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کے چہرہ پرایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 34برس گزرنے کے باوجود سانحہ کنن پوشپورہ کے متاثرین انصاف سے محروم ہیں جبکہ اس گھنائونے جرم میں ملوث بھارتی فوجی آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی تلخ یادیں کشمیری عوام کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے سانحات کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں کشمیری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی لازوال قربانیاں ہیں، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے کیس کو دوبارہ کھولے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ عظمیٰ گل، آزادکشمیر کی وزیر نبیلہ ایوب، ایمبسڈر نائلہ چوہان، سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، سید فیض نقشبندی، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، اعجاز رحمانی، راجہ شاہین، حسن البناء، شیخ عبدالمتین، شیخ یعقوب، حاجی محمد سلطان، نثار مرزا، زاہد صفی، امتیاز وانی، محمد شفیع ڈار، میاں مظفر، منظور احمد ڈار، عبدالمجید لون، عدیل مشتاق وانی، شیخ عبدالماجد، نذیر احمد کرنائی، عبدالحمید لون، سید گلشن احمد، عبدالمجید میر، منظور الحق بٹ، قاضی عمران، عبدالرشید بٹ، رئیس میر، نذیر احمد بٹ، مشتاق احمد لولابی، ارشد اعوان اور دیگر افراد نے سیمینار میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کنن پوش پورہ کنن پوشپورہ پورہ کے
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔