چاند نظر آیا یا نہیں؟ مفتی پوپلزئی نے بھی اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 فروری2025ء) چاند نظر آیا یا نہیں؟ مفتی پوپلزئی نے بھی اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک 1446 ہجری کا چاند دیکھنے کیلئے مقامی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور کی تاریخی مسجد قاسم علی خان میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت مفتی پوپلزئی کی جانب سے کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر مفتی پوپلزئی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ "مسجد قاسم علی خان پشاورمیں اجلاس میں چاند کی شہادت موصول نہ ہونے کی وجہ سے متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کل 30 شعبان المعظم ہوگی جبکہ یکم رمضان المبارک 2 مارچ بروز اتوار کو ہو گی۔
(جاری ہے)
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق ملک کے کسی علاقے سے چاند کی کوئی شہادت موصول نہ ہوئی، لہذا ملک میں رمضان المبارک کا پہلا روزہ 2 مارچ بروز اتوار کو ہو گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق پاکستان میں شام 7 بج کر 24 منٹ تک چاند نظر آنے کا امکان تھا، تاہم اس وقت تک ملک کے کسی علاقے سے چاند کی کوئی شہادت موصول نہ ہوئی۔
دوسری جانب سعودی عرب میں دنیا میں سب سے پہلے رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا۔ مملکت میں رمضان المبارک 1446 ہجری کا آغاز یکم مارچ بروز ہفتہ سے ہو گا۔ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے بعد مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبویﷺ میں تمام تراویح کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ اس سے قبل انڈونیشیا، ملائیشیا اور برونائی دارالاسلام میں ماہ مبارک میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں 2 مارچ بروز اتوار کو رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہو گا۔ آسٹریلیا میں یکم مارچ کو پہلا روزہ ہو گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رمضان المبارک کا اعلان کر چاند نظر کا چاند چاند کی
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔