عمران خان اور بشریٰ بی بی ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT
اسلام آباد:
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالت طلب کرلیا گیا۔
عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ملاقات نہ کروانے پر توہینِ عدالت کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل 4 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر وضاحت کریں کہ کیوں عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہوا۔ عدالت نے 4 مارچ تک سپرنٹنڈنٹ سے جواب بھی طلب کیا ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ وکیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کروانا 28 جنوری کے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 مارچ تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کی وساطت سے عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ملاقات نہ عدالت نے
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔