اکوڑہ خٹک دھماکا؛ کے پی حکومت کا وفاق سے ٹی او آرز جلد منظور کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 March, 2025 سب نیوز

پشاور (سب نیوز)
اکوڑہ خٹک دھماکے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق سے ٹی او آرز جلد از جلد منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر اطلاعات کے پی بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ وفاق افغانستان سے بات چیت کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے ٹی او آرز جلد از جلد منظور کرے اور تاخیر سے گریز کرے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتی ہے، اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق، صوبے میں دہشت گردی کی روک تھام کے بجائے اس اہم مسئلے پر سیاست کرنے سے گریز کرے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاق کو پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے بیرونی دوروں پر کوئی اعتراض نہیں، مریم نواز بھارت سے اسموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر خیبر پختونخوا حکومت کی افغانستان سے بات چیت میں کیا حرج ہے؟

مشیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ وفاق کی اس دوغلی پالیسی سے صوبے کی احساس محرومی مزید بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ضلع نوشہرہ میں واقع مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک خودکش حملے میں جے یو آئی (س) کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد شہید اور 12 زخمی ہوگئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ٹی او آرز جلد اکوڑہ خٹک

پڑھیں:

سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور

کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔

امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔

ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی

سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔

24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف

سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ

کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔

اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن