مصطفیٰ اور ارمغان جنگل بوائے نامی ویڈ استعمال کرتے تھے ، عینی شاہد کے ہوشرباء انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
کراچی( اوصاف نیوز)مصطفیٰ عامر قتل کیس میں عینی شاہد کے ہوشرباء انکشافات سامنے آگئے ۔ نیو ائیر نائٹ پارٹی کےعینی شاہد کے مطابق وہ ارمغان کو 2016 سے جانتا ہے۔ارمغان میرا بہت اچھا دوست تھا،ارمغان اپنے پیسوں سے سب دوستوں کو نشہ کرواتا تھا۔
نیو ائیر پارٹی پر مصطفی کو بہت بلایا لیکن وہ نہیں آیا، عینی شاہد کا کہناتھا کہ مصطفی نے نیو ائیر پارٹی ہاکس بے پر کی، نیو ائیر پارٹی میں شیراز بھی موجود تھا، مصطفی نے بتایا کہ ارمغان مجھے گھر بلاتا ہے لیکن میں نہیں جاونگا۔مصطفی اور ارمغان کی لڑائی دو اڑھائی لاکھ روپے کی وجہ سے بڑھ گئی،مصطفی نے ارمغان سے جو چیز ارمغان پیتا تھا اس کے پیسے لینے تھے، ارمغان پیسے نہیں دے رہا تھا جو مصطفی نے بہانے سے نکلوا لئے،
عینی شاہددوست کا کہنا تھا کہ مصطفی ارمغان کے گھر کیوں گیا مجھے نہیں معلوم،جنگل بوائے نامی ویڈ استعمال کرتے تھے، مصطفی کہاں سے منگواتا تھا ؟نہیں پتا،ویڈ کی پیکنگ کو اسکریچ کریں تو پن لوکیشن پتا چل جاتی تھی کہ پیکٹ کس مقام پر کھولا گیا۔مصطفی جو مال ارمغان کو بیچتا وہیں بیٹھ کے خود بھی پیتا تھا،ارمغان کے پاس 30 سے 35 گارڈز تھے، دن رات کے الگ الگ 8سے10 باونسرز تھے، باونسرز ارمغان کے گھر میں ہمارے سر پر کھڑے رہتے تھے
عینی شاہد دوست کے مطابق کوئی ویڈیو بنانے کی کوشش کرتا تو باونسرز روک دیتے تھے، ارمغان کے شاراع فیصل اور ڈیفینس فیز 8 میں بھی آفس تھے،ارمغان نے دیگر آفس،شیر کے بچے، گارڈز اور باونسرز 4 سے 5 مہینے پہلے ختم کر دیئے تھے،میری مصطفی سے آخری ملاقات عثام سواتی کی میت میں ہوئی،ارمغان سے آخری مرتبہ ڈیڑھ دو مہینے پہلے ملا تھا،
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عینی شاہد ارمغان کے نیو ائیر مصطفی نے
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے