آئی ایم ایف پروگرام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے میں اور آرمی چیف دوست ممالک کے پاس گئے، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے میں اور آرمی چیف دوست ممالک کے پاس گئے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا۔حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہماری حکومت کو ایک سال مکمل ہوگیا لیکن اپوزیشن ہمارے خلاف کوئی اسکینڈل نہیں لاسکی جب کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کا سفر خوارج کے خاتمے تک ممکن نہیں۔
منشیات سمگلنگ کے مقدمے میں 2 ملزمان کو 100 سال قید
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہماری حکومت کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے، آج ہی کے دن یہ حکومت بنی تھی اور آج نہ صرف ہم ایک سال مکمل کرچکے بلکہ دو دن پہلے کابینہ میں اضافہ بھی ہوا، مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کی شمولیت سے مجھے، حکومت اور عوام کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے اس سال رمضان پیکیچ پچھلے سال کے 7 ارب روپے کے مقابلے میں 20 ارب روپے مختص کیا ہے، جو چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 40 لاکھ خاندانوں کو انتہائی جدید طریقے سے پہنچایا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری معیشت ایک سال پہلے ہچکولے کھارہی تھی اور ڈیفالٹ کے بہت قریب پہنچ چکی تھی جس کی بے شمار وجوہات ہیں لیکن میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ جب ہم آئی ایم ایف سے گفتگو کررہے تھے تو وہ کون لوگ ہیں جو آئی ایم ایف کو خطوط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کا پروگرام منظور نہ کریں۔
ملزم ارمغان نے کسی بات کا سیدھا جواب نہیں دیا، ایف آئی اے تفتیشی ٹیم
انہوں نے کہا کہ یہ تک کہا گیا کہ بطور فلاں فلاں صوبے کے وزیر خزانہ ہم آپ کو لکھ کر دے رہے ہیں کہ آپ یہ پروگرام منظور نہ کریں، آج میں کہنا چاہوں گا کہ اس سے بڑی ملک دشمنی اور کوئی ہو نہیں سکتی، آج ہم نہ صرف ڈیفالٹ سے نکل آئے ہیں بلکہ آج ورلڈ بینک سمیت تمام عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ ہمار میکرو اکنامک اشاریے مثبت ہوگئے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ اپنی تمام اتحادی جماعتوں کی بدولت تمام مشکل مراحل عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور اب ملکی ترقی کا سفر شروع ہونے جارہا ہے اور آج تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے سب نے ملکر کام کیا، اس پروگرام کے لیے شرائط کا ایک اہم تقاضا یہ تھا کہ ہم نے 5 ملین ڈالر کا گیپ پورا کرنا تھا، جس کا ایک ہی طریقہ تھا کہ دوست ممالک سے درخواست کرتے، اس کے لیے میں گیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر گئے، کچھ ممالک میں ہم اکیلے اور کئی ممالک میں ایک ساتھ گئے، تب جا کر یہ گیپ پورا ہوا۔
چنے اور انڈے کا پراٹھا رول بنانے کا طریقہ
ان کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل سعودی فرنمانرواں نے ہماری تیل کی سہولت ری نیو کی، یو اے ای کے صدر دورے پر آئے اور انہوں نے 2 ارب ڈالر اوور رول کردیے،اس طرح ہم نے مشکلات کے دریا عبور کیے اور یہ سال مکمل ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ آج مہنگائی میں کمی ہورہی ہے جس کی وجہ ٹیم ورک ہے، یہ ہی راستہ ہے، یہ ہی فارمولا ہے کہ مل کر کام کریں، ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، مل کر کام کریں اور پاکستان کی تقدیر کو بدل دیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایک سال مکمل شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے ایم ایف تھا کہ کے لیے کا ایک
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔