ہماری پس پردہ کوئی بات چیت نہیں چل رہی، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی پس پردہ کوئی بات نہیں چل رہی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بات چیت شروع ہوئی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، پس پردہ کوئی بات چیت نہیں چل رہی۔
یہ بھی پڑھیں:سیاسی قوتیں کمزور ہیں اس لیے اسٹیبلشمنٹ سر پہ سوار ہے، بیرسٹر گوہر
انہوں نے کہا کہ سیاسی مذاکرات حکومت کی وجہ سے ناکام ہوئے، اگر مذاکرات میں پیشرفت ہوتی تو اچھا ہوتا، کیوں کہ سیاسی مسئلے کا سیاسی حل ہی نکلنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور وکلا کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، ہم نے عمران خان سے ملاقات کے لیے بارہا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تاہم اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی نہ ہونے پر کارکن ہم سے ناراض ہیں، بیرسٹر گوہر
واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی تاہم کوئی نتیجہ نہ اخد سکا۔
پی ٹی آئی نے رواں سال جنوری کے آخری ہفتے میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، اس کے بعد حکومت کی جانب سے مذاکرات ختم کردیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ملاقات چیف جسٹس کی درخواست پر کی، انہیں بتایا کہ آپ کے حکم پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی جس سے ممکنہ سیاسی بات چیت کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔
حکومتی اور سیکورٹی ذرائع کا اصرار تھا کہ یہ ایک غیر طے شدہ میٹنگ تھی جس میں صرف اور صرف سیکیورٹی امور پر توجہ دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آرمی چیف اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی عمران خان مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی سیاسی کمیٹی مذاکرات بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی بات چیت
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔