Express News:
2026-06-03@05:42:45 GMT

کچھ لطیفے کچھ حقیقے

اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT

بخدا کچھ دنوں سے ہماری جان بڑی مشکل میں ہے کالم کے لیے موضوعات کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ اخباروں میں سب سے زیادہ مواد ’’مقدسات‘‘ کا ہوتا ہے اس پر لکھیں تو ’’توہین مقدسات‘‘ اور گردن ہلکا ہونے کا خطرہ ہے۔یا پھر بیانات ہی بیانات ہیں جن پر لکھ لکھ کر ہمارا قلم تو کیا انگلیاں تک گھس گئی ہیں۔خوشخبریاں ہی خوش خبریاں پہلی ترجیحات ہی ترجیحات اور وعدے ہی وعدے

ترے وعدوں پر کہاں تک میرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ میری آس ٹوٹ جائے

رہی سیاست تو وہ اب سوتنوں کی لڑائی ہوگئی ہے اور سوتنوں کی لڑائی میں چپلوں جھاڑوں اور برتنوں کا نشانہ کون بنے۔ویسے بھی ان موضوعات کے لیے ہمارے اڑوس پڑوس میں اتنے دانا ودانشور پڑے ہیں کہ روزانہ دانش کے دریا بہائے جارہے ہیں۔ زرین مشورے،تجاویز اور رہنمائیاں۔افریقی ممالک سے لے کر مشرق بعید تک کے ممالک امریکا ہو یا چین جاپان کے معاملات پر الغاروں تلغاروں ’’دانش‘‘ بہائی جا رہی ہے۔ہر مسئلے کا حل چینکوں میں پیش کیا جارہا ہے مطلب یہ کہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔اب ہمارے لیے باقی کیا رہ گیا ہے کہ ہم ویسے بھی عشق کے علمبردار ہیں

عقل عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے

عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم

اس لیے سوچا ہے کہ کچھ لطیفے حقیقے سنا کر اپنے پڑھنے والوں کو انٹرٹین کریں۔ایک زیادہ تو نہیں لیکن ذرا سا پرانا واقعہ یاد آرہا ہے ان دنوں شادی بیاہ میں تماشا ضرور ہوتا تھا ایک وسیع وعریض دائرے میں چاروں طرف چارپائیاں ڈال کر اکھاڑہ بنایا جاتا تھا۔ لوگ کچھ چارپائیوں میں اور کچھ بیچ بیچ میں کھڑے ہوتے تھے اور دائرے کے اندر تماشا ہوتا تھا۔ تماشا بھی دوقسم کا ہوتا تھا ایک وہ جس میں مشہور مرد گلوکار گاتے تھے اسے مجلس اور فنکاروں کو مجلسیان کہا جاتا تھا۔

دوسرے تماشے کو صرف تماشا کہا جاتا تھا کوئی مشہور طوائف سازندوں کے جلو میں ناچتی گاتی تھی وہ دائرے میں چارپائیوں کے سامنے تھوڑی دیر رک کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی تھی اس کے رکنے کا انحصار سامنے سے آنے والے نوٹوں پر ہوتا تھا۔

جتنا گُڑ اتنا میٹھا کے اصول پر جتنے نوٹ اتنا وقت۔جس تماشے کا میں ذکر کررہا ہوں یہ کوئی پچاس سال پرانا واقعہ ہے، اپنے وقت کی بیسٹ سیلر طوائف شوکت اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھی، اس وقت ہم بچے تھے کھڑے تھے اچانک ایک نوجوان کھاڑے میں کودا اور شوکت کو چھونے کا خلاف توقع، خلاف معمول اور خلاف اصول کام کیا، پھر ایک زبردست چٹاخ کی آواز آئی، شوکت نے اس نوجوان کو زوردار تھپڑ مارا تھا، پن ڈراپ خاموشی چھاگئی جس میں شوکت کی آواز آئی۔اس نے اسے خوب برا بھلا کہا۔ اتنے میں کچھ بزرگ اور تماشے کے مالک اور منتظمین بھی آگئے اور اس نوجوان کو لاتوں گھونسوں پر رکھ لیا گیا۔ وہ نوجوان اس کے بعد کبھی گاؤں میں نظر نہیں آیا، کئی سال بعد اس کی لاش ہی گاؤں واپس آئی۔

نمبر دو۔گرمیوں کے موسم میں اباسین(دریائے سندھ کو پشتو میں اباسین کہا جاتا ہے) ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی جھولا جھلانے کا کھیل ہورہا تھا، عورتوں اور مردوں کی باریاں تھیں ،جھولا دریاکنارے دو بڑے درختوں میں ڈالا گیا تھا ہرکوئی کوشش کرتا تھا کہ جھولا اونچائی سے اونچائی تک پہنچائے یہ مقابلہ سنگل بھی ہوتا تھا یعنی ایک بندہ اکیلا بھی اپنی طاقت اور مہارت دکھاتا ہے اور دو بندے بھی ایک جھولے میں آمنے سامنے ہوکر باری باری زور لگاتے تھے۔تورہ بھی ایک نوجوان اور حسین وجمیل کھلاڑی تھی۔

ڈیل میں بھی مضبوط تھی اور جھولا جھلانے میں ماہر بھی اس کی باری آئی تو اس نے مسکراتے ہوئے جھولا سنبھال لیا دھیرے دھیرے جھولا اوپر چڑھتا گیا ہر پھیرے میں اونچے سے اونچا۔اس نے جھولا اتنا اوپر پہنچایا کہ دونوں طرف جھولے کی لکڑی سے بھی اوپر چلی جاتی لوگ حیرت سے منہ کھولے داد دے رہے تھے کہ اچانک نہ جانے کیا ہوا اس کا آزاربند ٹوٹا یا کھل گیا ، ہوا بھی تیز تھی جھولا بھی تیز تھا اس لیے قیمص کے دامن بھی ہوا میں اڑنے لگے۔

عجیب سی صورت حال تھی سب دیکھنے والے گنگ تھے، تورہ نے جھولے کو جی جان لگاکر اور اونچا پہنچایا اور پرندے کی طرح پرواز کرتے ہوئے دریا کے بیچ میں گئی، یہاں دریا کا بہاؤ بہت تیز تھا اس لیے چشم زدن میں تورہ کا وجود پانی میں غائب ہوگیا، بیچاری نے اپنی سترپانی میں چھپا لی تھی، بہت سے لوگ اسے بچانے کے لیے کود پڑے لیکن گہرے دریا کا تیز بہاؤ اسے نگل چکا تھا۔دوسرے دن اس کی لاش نیچے چند میل کے فاصلے پر ملی جہاں دریا کا پاٹ چوڑا اور پانی کم گہرا ہوگیا تھا۔

نمبر تین۔گلاب اور طلا دو بہت گہرے دوست تھے گلاب عمر میں طلا سے چند سال بڑا تھا اس لیے گلاب کو لالا کہتا تھا لیکن دونوں میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی مکمل آزادی تھی ۔ طلا گلاب کو گالی دیتے ہوئے لالا بھی ضرور کہتا ۔ایک دن گلاب اپنی بیوی سے لڑ کر سخت غصے کے عالم میں گھر کے سامنے ڈیرے میں بیٹھے ہوئے تھے، طلا کو بیوی بارے گالیاں دینی شروع کیں۔طلا نے آرام سے مسکرا کر جواب دیے۔اس پر گلاب نے اٹھ کر اسے گلے لگایا اب ٹھیک ہے۔مجھے گالیاں دو لیکن تھوڑا سا اور میٹھے ہوجاؤ یہ بہت کم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتا تھا اس لیے

پڑھیں:

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا

مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم  ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔

اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25

— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔

’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،

خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار

فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری

عائد ہوتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان

نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…

— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026

’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا

دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی

تباہی پر فخر کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی

کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ

متعلقہ مضامین