Express News:
2026-07-24@11:51:06 GMT

کچھ لطیفے کچھ حقیقے

اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT

بخدا کچھ دنوں سے ہماری جان بڑی مشکل میں ہے کالم کے لیے موضوعات کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ اخباروں میں سب سے زیادہ مواد ’’مقدسات‘‘ کا ہوتا ہے اس پر لکھیں تو ’’توہین مقدسات‘‘ اور گردن ہلکا ہونے کا خطرہ ہے۔یا پھر بیانات ہی بیانات ہیں جن پر لکھ لکھ کر ہمارا قلم تو کیا انگلیاں تک گھس گئی ہیں۔خوشخبریاں ہی خوش خبریاں پہلی ترجیحات ہی ترجیحات اور وعدے ہی وعدے

ترے وعدوں پر کہاں تک میرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ میری آس ٹوٹ جائے

رہی سیاست تو وہ اب سوتنوں کی لڑائی ہوگئی ہے اور سوتنوں کی لڑائی میں چپلوں جھاڑوں اور برتنوں کا نشانہ کون بنے۔ویسے بھی ان موضوعات کے لیے ہمارے اڑوس پڑوس میں اتنے دانا ودانشور پڑے ہیں کہ روزانہ دانش کے دریا بہائے جارہے ہیں۔ زرین مشورے،تجاویز اور رہنمائیاں۔افریقی ممالک سے لے کر مشرق بعید تک کے ممالک امریکا ہو یا چین جاپان کے معاملات پر الغاروں تلغاروں ’’دانش‘‘ بہائی جا رہی ہے۔ہر مسئلے کا حل چینکوں میں پیش کیا جارہا ہے مطلب یہ کہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔اب ہمارے لیے باقی کیا رہ گیا ہے کہ ہم ویسے بھی عشق کے علمبردار ہیں

عقل عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے

عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم

اس لیے سوچا ہے کہ کچھ لطیفے حقیقے سنا کر اپنے پڑھنے والوں کو انٹرٹین کریں۔ایک زیادہ تو نہیں لیکن ذرا سا پرانا واقعہ یاد آرہا ہے ان دنوں شادی بیاہ میں تماشا ضرور ہوتا تھا ایک وسیع وعریض دائرے میں چاروں طرف چارپائیاں ڈال کر اکھاڑہ بنایا جاتا تھا۔ لوگ کچھ چارپائیوں میں اور کچھ بیچ بیچ میں کھڑے ہوتے تھے اور دائرے کے اندر تماشا ہوتا تھا۔ تماشا بھی دوقسم کا ہوتا تھا ایک وہ جس میں مشہور مرد گلوکار گاتے تھے اسے مجلس اور فنکاروں کو مجلسیان کہا جاتا تھا۔

دوسرے تماشے کو صرف تماشا کہا جاتا تھا کوئی مشہور طوائف سازندوں کے جلو میں ناچتی گاتی تھی وہ دائرے میں چارپائیوں کے سامنے تھوڑی دیر رک کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی تھی اس کے رکنے کا انحصار سامنے سے آنے والے نوٹوں پر ہوتا تھا۔

جتنا گُڑ اتنا میٹھا کے اصول پر جتنے نوٹ اتنا وقت۔جس تماشے کا میں ذکر کررہا ہوں یہ کوئی پچاس سال پرانا واقعہ ہے، اپنے وقت کی بیسٹ سیلر طوائف شوکت اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھی، اس وقت ہم بچے تھے کھڑے تھے اچانک ایک نوجوان کھاڑے میں کودا اور شوکت کو چھونے کا خلاف توقع، خلاف معمول اور خلاف اصول کام کیا، پھر ایک زبردست چٹاخ کی آواز آئی، شوکت نے اس نوجوان کو زوردار تھپڑ مارا تھا، پن ڈراپ خاموشی چھاگئی جس میں شوکت کی آواز آئی۔اس نے اسے خوب برا بھلا کہا۔ اتنے میں کچھ بزرگ اور تماشے کے مالک اور منتظمین بھی آگئے اور اس نوجوان کو لاتوں گھونسوں پر رکھ لیا گیا۔ وہ نوجوان اس کے بعد کبھی گاؤں میں نظر نہیں آیا، کئی سال بعد اس کی لاش ہی گاؤں واپس آئی۔

نمبر دو۔گرمیوں کے موسم میں اباسین(دریائے سندھ کو پشتو میں اباسین کہا جاتا ہے) ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی جھولا جھلانے کا کھیل ہورہا تھا، عورتوں اور مردوں کی باریاں تھیں ،جھولا دریاکنارے دو بڑے درختوں میں ڈالا گیا تھا ہرکوئی کوشش کرتا تھا کہ جھولا اونچائی سے اونچائی تک پہنچائے یہ مقابلہ سنگل بھی ہوتا تھا یعنی ایک بندہ اکیلا بھی اپنی طاقت اور مہارت دکھاتا ہے اور دو بندے بھی ایک جھولے میں آمنے سامنے ہوکر باری باری زور لگاتے تھے۔تورہ بھی ایک نوجوان اور حسین وجمیل کھلاڑی تھی۔

ڈیل میں بھی مضبوط تھی اور جھولا جھلانے میں ماہر بھی اس کی باری آئی تو اس نے مسکراتے ہوئے جھولا سنبھال لیا دھیرے دھیرے جھولا اوپر چڑھتا گیا ہر پھیرے میں اونچے سے اونچا۔اس نے جھولا اتنا اوپر پہنچایا کہ دونوں طرف جھولے کی لکڑی سے بھی اوپر چلی جاتی لوگ حیرت سے منہ کھولے داد دے رہے تھے کہ اچانک نہ جانے کیا ہوا اس کا آزاربند ٹوٹا یا کھل گیا ، ہوا بھی تیز تھی جھولا بھی تیز تھا اس لیے قیمص کے دامن بھی ہوا میں اڑنے لگے۔

عجیب سی صورت حال تھی سب دیکھنے والے گنگ تھے، تورہ نے جھولے کو جی جان لگاکر اور اونچا پہنچایا اور پرندے کی طرح پرواز کرتے ہوئے دریا کے بیچ میں گئی، یہاں دریا کا بہاؤ بہت تیز تھا اس لیے چشم زدن میں تورہ کا وجود پانی میں غائب ہوگیا، بیچاری نے اپنی سترپانی میں چھپا لی تھی، بہت سے لوگ اسے بچانے کے لیے کود پڑے لیکن گہرے دریا کا تیز بہاؤ اسے نگل چکا تھا۔دوسرے دن اس کی لاش نیچے چند میل کے فاصلے پر ملی جہاں دریا کا پاٹ چوڑا اور پانی کم گہرا ہوگیا تھا۔

نمبر تین۔گلاب اور طلا دو بہت گہرے دوست تھے گلاب عمر میں طلا سے چند سال بڑا تھا اس لیے گلاب کو لالا کہتا تھا لیکن دونوں میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی مکمل آزادی تھی ۔ طلا گلاب کو گالی دیتے ہوئے لالا بھی ضرور کہتا ۔ایک دن گلاب اپنی بیوی سے لڑ کر سخت غصے کے عالم میں گھر کے سامنے ڈیرے میں بیٹھے ہوئے تھے، طلا کو بیوی بارے گالیاں دینی شروع کیں۔طلا نے آرام سے مسکرا کر جواب دیے۔اس پر گلاب نے اٹھ کر اسے گلے لگایا اب ٹھیک ہے۔مجھے گالیاں دو لیکن تھوڑا سا اور میٹھے ہوجاؤ یہ بہت کم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتا تھا اس لیے

پڑھیں:

پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے

ویب ڈیسک : پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (پی ای آئی ایم اے) کی جانب سے مختلف شعبوں میں تجربہ کار اور قابل پیشہ ور افراد کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر 31 اہم اسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے درکار تعلیمی قابلیت اور درخواست دینے کا طریقہ کار بھی سامنے آگیا ۔ 

پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ایڈمنسٹریشن، فنانس، تعلیم، آئی ٹی اور ریسرچ سمیت مختلف محکموں میں عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ان ملازمتوں کے لیے ماہانہ تنخواہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہیں۔

آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے

ہیومن ریسورس اینڈ ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرام، پارٹنرشپ اینڈ کولیبریشن، اکیڈمکس اینڈ ریسرچ، اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کے شعبوں کے لیے ڈائریکٹرز مطلوب ہیں۔ ان عہدوں کے لیے عمر کی حد 35 سے 55 سال، کم از کم 16 سالہ تعلیم اور 10 سال کا متعلقہ تجربہ لازمی ہے اور ماہانہ تنخواہ 7,50,000 روپے تک ہوگی۔ 

چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ، اور ڈیٹا انجینئر کی ایک ایک اسامی خالی ہے، چیف آڈٹ آفیسر کے لیے عمر کی حد 30 سے 45 سال جبکہ ڈیٹا اینالسٹ اور انجینئر کے لیے 28 سے 45 سال ہے۔ اس کے علاوہ ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ اور مانیٹرنگ سمیت دیگر شعبوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں ، جن کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے ہے۔ تاہم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ ہوگی۔ ان کے لیے 16 سالہ تعلیم اور 3 سال کا تجربہ درکار ہے۔

آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

پیمانے کے تحت 7 اسسٹنٹ اور 2 اسسٹنٹ آئی ٹی کی اسامیاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں، جن کے لیے کم از کم 1 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔

درکار تعلیمی قابلیت
امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ اداروں کی ڈگریاں ہونی چاہئیں، جن میں مطلوبہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس اینڈ اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، ڈیٹا سائنس، کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

درخواست دینے کا طریقہ کار
خواہش مند امیدوار پنجاب حکومت کے آفیشل جاب پورٹل jobs.punjab.gov.pk پر جا کر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں، بذریعہ ڈاک، ای میل، کوریئر سے جمع کروائی جانے والی درخواستیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

پہلے سے سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والے امیدواروں کو اپنے محکمے کے توسط سے اپلائی کرنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر این او سی فراہم کرنا ہوگا۔

: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت

متعلقہ مضامین