راولپنڈی: بیوہ خاتون گھر میں اہل خانہ پر تشدد، لوٹ مار کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کے علاقے میں میں بیوہ خاتون و اس کے جیٹھ کے گھر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنانے سمیت 2 بھائیوں اور نقدی و زیورات غائب کرنے پر پولیس اہلکار اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ مسماتہ لبنی بی بی نے تھانہ صدر بیرونی کو مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایاکہ بیوہ اور نجی سکول میں آیا کی ڈیوٹی کرتیں ہوں، اسکول والوں نے جگہ خرید کردی جس ایک این جی او نے گھر بنا کر دیا ہے، میں خود جیٹھ کے گھر رہتی ہوں جب کہ چھوٹا بھائی فرحان میرے زیر تعمیر مکان پر رہتا جو دیکھ بھال کرتا ہے۔
2 ماہ قبل میرا بڑا بھائی زبیر بھی میرے مکان میں شفٹ ہوگیا، زبیر آئیس کا نشہ کرتا ہے، اس کے پاس فیصل نامی پولیس اہلکار اور دیگر تین افراد بھی آتے اور وہ سب مل کر نشہ کرتے۔
11 مارچ کو رات گئے گھر موجود تھے، رات گیے چند باوردی پولیس والے نشے کی حالت میں دیوار پھلانگ کر جیٹھ کے گھر داخل ہوئے، جن کے ساتھ میرا بھائی زبیر اور فیصل نامی پولیس اہلکار بھی تھا، میرے بڑے بھائی زبیر نے میرے جیٹھ کو آواز دی کہ آپ سے کام ہے اور کمرے سے باہر بلوایا اور باہر ان افراد نے انھیں مارنا شروع کر دیا، کپڑے پھاڑ دیے اور رہائشی کمرے اور گھر کی تلاش شروع کردی۔
ختون نے بتایا کہ مجھے لوگ زکواتہ وغیرہ دیتے ہیں، ایک لاکھ رقم اور ڈھائی تولے زیورات بیثی کی شادی کے لیے جمع کر رکھے تھے، وہ اور دیگر قیمتی سامان اٹھا کر لے گیے۔
تمام پولیس والے گھر میں زبردستی داخل ہوئے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ، دونوں بھائیوں کا معلوم نہیں، کہاں ہیں، اب پولیس والے فون کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں، تمھارے گھر والوں کو تہس نہس کردیں گے، مزید رقم دو بصورت دیگر تمھارے جیٹھ وغیرہ کو منشیات کے مقدمے میں پھانسا دیں گے۔
مجھے اور میرے گھر والون کو ان کے مظالم سے نجات دلاکر سخت قانونی کارروائی کی جائے، ادھر کھلی کچہری میں شکایت پر سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے سخت نوٹس لیا اور ایس پی صدر نبیل کھوکھر کو انکوائری کا حکم دیا۔
ابتدائی انکوائری میں الزمات درست پائے جانے پر تھانہ دھمیال کے کانسٹیبل فیصل کے خلاف مقدمہ درج کر کے اس کو گرفتار کر لیا۔
سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل فیصل تھانہ دھمیال میں تعینات تھا جس کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، میرٹ پر تفتیش کرتے ہوئے ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا۔
سی پی او راولپنڈی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس پولیس افسران و اہلکاروں کو اپنے افعال و کردار میں زیادہ محتاط اور ذمہ دار ہونا چاہیے اختیارات سے تجاوز، تشدد یا ناروا سلوک کسی بھی صورت میں قابل برداشت نہیں مذکورہ اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جا رہی ہے، ایسے افراد کو محکمہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار کے خلاف
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔
ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔
اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔
دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔
اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔