دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے حوالے سے پارلیمانی قومی سلامتی کی کمیٹی  کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی اندورنی کہانی سامنے آگئی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، عسکری قیادت کی جانب سے ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر خزانہ، وزیراعلیٰ کے پی، گورنر پنجاب، وزیر دفاع اور دیگر شریک ہوئے اور اظہارخیال کیا۔

اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ  نے ہماری پارٹی کا وجود ختم کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ایسا صوبہ جو دہشت گردی کا شکار ہے، اس کا وزیر اعلیٰ اجلاس میں صوبے میں ہونے والی دہشت گردی کا جواز دیتا رہا اور کہا کہ اس دہشت گردی کے ذمہ دار ہم خود ہیِں۔

انہوں نے کہا کہ  جن لوگوں نے 9 مئی کیا اور وہ وہاں موجود تھے انہیں سزائیں ملنی چاہیے،  میں مانتا ہو کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان  نے کہا کہ 2024 کے الیکشن میں ہمیں تو الیکشن کی کیمپئین نہیں کرنے دی گئی کیونکہ ہمیں تو تھریٹ تھی جب کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں کھل کر کمپین کی لیکن ان پر تو ایک حملہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ  آج جب صوبے میں دہشت گردی کا دور دورہ ہے تو سمجھ آتا ہے کہ کیوں تحریک انصاف پر حملے نہیں ہوتے، تحریک انصاف کو اجلاس میں ضرور آنا چاہیے تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ  دہشت گردی کی جنگ میں سیاسی اتفاق رائے انتہائی اہم ہے،  میں اور پیپلز پارٹی دہشت گردی پر سیاسی اتفاق رائے  پیدا کرنے کے لئے  ہر وقت تیار ہیں، اور  ہم اس کام کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کا زیادہ فوکس کائنٹک ایکشنز کی طرف ہے، دہشت گردی کے سافٹ پرانگ جیسا کے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی ریاست مخالف ذہن سازی کی طرف نہیں ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر سافٹ پرانگ کو ایکسپوز کرنا اشد ضروری ہے،  پیپلز پارٹی اس سافٹ پرانگ کو بھی لیڈ کرنے کے لئے تیار ہے، پاکستان کو دنیا کے سامنے افغانستان کو  گلوبل دہشت گردی کا حب اور محور پیش کرنا ہوگا، اس سیکیورٹی کے اس بڑے چیلنج کی طرف توجہ دلانی ہوگی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کو عالمی مسئلہ بتایا جا سکے،  پاکستان میں دہشت گردی سے جڑے انٹرنیشنل ٹیرر فنانسنگ نیٹورک کو ہمیں عالمی اور یونائیٹڈ نیشنز لیول پر بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی بھی اور اختلاف رائے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، پیپلز پارٹی ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

سربراہ عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا جاے کے 2013 میں طالبان کے حامی خیبر پختون خواہ صوبے میں حکومت میں کیسے آ گئے؟؟  انھیں کون حکومت میں لے کر آیا؟ 

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقوں میں  تحریک انصاف نے چالیس ہزار دہشت گرد آباد کیے، ⁠تحریک انصاف کا بانی عمران خان طالب اور دہشت گرد ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار