خیبر پختونخوا کے اٹارنی جنرل آفس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کردی گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 23 March, 2025 سب نیوز

پشاور(سب نیوز)خیبر پختونخوا کے اٹارنی جنرل آفس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کردی گئی ہیں اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ون ثنا اللہ خان کو خیبر پختونخوا کا نیا ایڈیشنل اٹارنی جنرل تعینات کر دیا گیا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفترسے جاری اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا کے اٹارنی جنرل آفس میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ مختلف نئے نام بھی جاری کردیے ہیں اور دفتر کے کئی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ثنا اللہ خان کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان خیبر پختونخوا کی نئی ذمہ داریاں تفویض کردی گئیں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پیپلزلائز فورم خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر گوہر رحمان خٹک ڈپٹی اٹارنی جنرل ون کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں گے۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ(ن)سے تعلق رکھنے والے محمد عاطف نذیر ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹو اور اکبر یوسف ڈپٹی اٹارنی جنرل تھری اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان کی اسامیوں پر بھی نئے تعیناتیاں کی گئی ہیں۔بیرسٹر راحت علی خان نحقی کوایک بار اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان خیبر پختونخوا تعینات کر دیا گیا ہے، دیگر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات ہونے والوں میں اشفاق خلیل، فصیح اللہ، تیورخان، فرہاد علی اور اشفاق احمد شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پختونخوا کے اٹارنی جنرل آفس میں خیبر پختونخوا کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن