پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اہم معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے نئے معاہدے پر اتفاق ہوگیا، اور دونوں فریقین نے جاری 37 ماہ کے بیل آؤٹ پروگرام کے پہلے جائزے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بورڈ کی منظوری تک حکومت 28 ماہ پر محیط نئے ماحولیاتی لچکدار قرض پروگرام کے تحت ایک ارب 30 کروڑ ڈالر حاصل کرسکتی ہے۔اس سے پاکستان کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی سہولت بھی ملے گی، جس سے پاکستان کو ملنے والی رقم 2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مشن چیف نیتھن پورٹر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت 37 ماہ کے توسیعی انتظامات کے پہلے جائزے اور آئی ایم ایف کے ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی ٹرسٹ‘ کے تحت 28 ماہ کے نئے معاہدے پر پاکستانی حکام کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ (ایس ایل اے) کیا ہے، جس کی مجموعی رسائی 28 ماہ کے دوران تقریباً ایک ارب 30 کروڑ ڈالر ہے۔
پاکستان نے اکتوبر میں آئی ایم ایف کے آر ایس ایف سے ایک ارب ڈالر کی درخواست کی تھی، آر ایس ایف کے تحت فنڈنگ ان ممالک کو فراہم کی جاتی ہے جو موافقت کے ذریعے آب و ہوا کی تباہ کاریوں کے خلاف لچک پیدا کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کی اصلاحات کا عہد کرتے ہیں۔
یہ قرض 30 سال میں واپس کیا جا سکتا ہے، جس میں 10 سال کی رعایت بھی شامل ہے اور عام طور پر ای ایف ایف کی شرائط سے سستا ہے، جیسے 7 ارب ڈالر کا قرض پروگرام جو جاری ہے۔
سال 2024 کے وسط میں حاصل ہونے والے اس پروگرام نے معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا اور حکومت نے کہا ہے کہ ملک طویل المدتی بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔نیتھن پورٹر نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان نے چیلنجنگ عالمی ماحول کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جس سے اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر کی ادائیگی ہو جائے گی۔آئی ایم ایف عہدیدار نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ اگرچہ معاشی نمو معتدل ہے، افراط زر 2015 کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آچکی ہے، مالی حالات میں بہتری آئی ہے، خودمختار ی کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی آئی اور بیرونی توازن مضبوط ہے۔
وزارت خزانہ نے اپنے ماہانہ معاشی آؤٹ لک میں کہا ہے کہ گزشتہ ماہ تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر سست روی کے بعد اپریل میں افراط زر میں 3 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔افراط زر کئی مہینوں سے کم ہو رہی ہے، جو مئی 2023 میں تقریباً 40 فیصد تک بڑھنے کے بعد فروری میں 1.
بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے خطرات پاکستان کے ’مشکل سے حاصل کردہ میکرو اکنامک استحکام‘ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔فنڈ نے مزید زور دے کر کہا کہ آب و ہوا سے متعلق خطرات پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں، جس سے موافقت کے اقدامات سمیت لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق اس سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حاصل کی گئی پیش رفت کو جاری رکھا جائے، پبلک فنانس کو مزید مضبوط بنایا جائے، قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا جائے، بیرونی بفرز کی تعمیر نو کی جائے اور نجی شعبے کی قیادت میں مضبوط، جامع اور پائیدار ترقی کی حمایت میں خرابیوں کو ختم کیا جائے’۔
فنڈ نے نوٹ کیا کہ پاکستان نے ای ایف ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور آر ایس ایف کی حمایت یافتہ معاہدے کے تحت اصلاحات کو آگے بڑھا کر اپنی کوششوں کو تقویت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی پالیسی ترجیحات میں عوامی قرضوں کو کم کرنے کے لیے مالی استحکام جاری رکھنا، سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے جگہ پیدا کرنا، مالی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مزید پیش رفت کرنا، مناسب طور پر سخت مالیاتی پالیسی کو برقرار رکھنا، ٹیرف کو کم کرنے کے لئے توانائی کے شعبے میں لاگت کو کم کرنے والی اصلاحات کو جاری رکھنا؛ اور آب و ہوا کی اصلاحات کی کوششوں میں اضافہ کرنا شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پروگرام کے ایف ایف ارب ڈالر میں کہا کہا گیا ایک ارب کے بعد کہا کہ ایف کے کے لیے ایف کی کے تحت ماہ کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔