بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر شرعی: اسلامی نظریہ کونسل
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار) اسلامی نظریہ کونسل کا 241واں اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی چیئرمین اسلامی نظریہ کونسل کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کل 19ایجنڈا آئٹمز پر غور و فکر ہوا۔ انسانی دودھ کے بینک کے قیام سے متعلق سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ اینڈ نیوناٹالوجی کے چار ماہرین کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے اراکین کونسل کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے 33 سوالات کے جوابات بھی دیئے، اراکین کونسل کے کچھ مزید سوالات کے جوابات بھی دئیے گئے، کونسل نے اپنے ہاں بھی عمیق تحقیق کا اہتمام کیا ہے، مسئلہ کی اہمیت اور حقیقی ضرورت کے گہرے مطالعہ کی غرض سے اس بابت حتمی فیصلہ اگلے اجلاس میں زیرغور لایا جائے گا۔ انسانی اعضاء کی پیوند کاری سے متعلق کونسل نے فیصلہ کیا کہ عضو عطیہ کرنے والے فرد کی زندگی کو خطرہ لاحق کئے بغیر دوسرے فرد کے جسم میں اعضاء (گردہ و جگر) کی پیوند کاری کی جا سکتی ہے۔ کونسل نے طے کیا کہ اسلامی اصطلاحات جیسے صلاۃ، آیت، مسجد وغیرہ کی انگلش ٹرانسلیشن کے بجائے اصل عربی الفاظ ہی استعمال کئے جائیں۔ بجلی چوری سے متعلق طے کیا گیا کہ اس حوالے سے اہل علم و فکر اپنی اپنی سطح کے موافق آواز بلند کریں۔ کنٹری بیوٹری پینشن سے متعلق طے کیا گیا کہ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو اس حوالے پابند کیا جاسکتا ہے، لیکن قدیم ملازمین کو اس میں جانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، نیز اس فنڈ کو سودی نظام سے مکمل طور پر الگ کیا جانا ضروری ہے۔ نکاح سے قبل زوجین کے تھیلسیمیا یا دیگر کسی متعدی مرض کے ٹیسٹ کروانے کو اختیاری طورپر نکاح نامہ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، تاہم شرعاً نکاح کرنا فریقین کی مرضی پر منحصر ہوگا۔ بغیر اجازت دوسری شادی کرنے کے نتیجے میں پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر شرعی ہے، اور ایسا عدالتی فیصلہ جو یہ حق دے شریعت کی نظر میں درست نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی رقوم کو جلد از جلد مستحقین میں تقسیم کیا جائے، تاخیر ہر گز نہ کی جائے، تاہم جب تک تقسیم کرنے میں انتظامی طور پر وقت لگے تو اس دوران اس فنڈ کو اسلامی بینکوں کے نفع بخش اکائونٹ میں رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم اگر نقصان ہو جائے تو حکومت ضامن ہو گی۔ کے پی ٹرانس جینڈر بل انہی غیر شرعی امور پر مشتمل ہے جو ٹرانس جینڈر ایکٹ،2018 ء کے قانون میں موجود ہیں، اس قانون کو قبل ازیں کونسل اور وفاقی شرعی عدالت اسلامی احکام سے متصادم قرار دے چکی ہے، کے پی کا بل گرو چیلہ کے غیر شرعی تصور پر بھی مبنی ہے۔ اجلاس کے آخر میں چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کی والدہ محترمہ کی وفات پر دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، ظفر اقبال چوہدری، ڈاکٹر عبد الغفور راشد، صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری، محمد جلال الدین، فریدہ رحیم، جسٹس (ر) الطاف ابراہیم، حسین قریشی، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری، پیر شمس الرحمن مشہدی، علامہ محمد یوسف اعوان، مفتی محمد زبیر، سید افتخار حسین نقوی، پروفیسر ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، حسان حسیب الرحمن، محمد شفیق خان پسروری، صاحبزادہ حافظ محمد امجد، سید سعید الحسن، سید عتیق الرحمن نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔