حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر آج ملک بھر میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے مارچ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد امت مسلمہ کے حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگانا ہے، موجودہ حالات میں حماس کا ساتھ نہ دینا منافقت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی 13 اپریل کو کراچی میں بہت بڑا مارچ کرے گی، 18 کو ملتان میں فلسطین مارچ ہو گا، جماعت اسلامی 20 اپریل کو اسلام آباد میں فلسطین مارچ کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر آج ملک بھر میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔ مرکزی مارچ مال روڈ لاہور پر ہو گا جس کی قیادت حافظ نعیم الرحمان کریں گے، فلسطین مارچ میں بچوں، خواتین، فیملیز کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ٹرمپ کے غزہ کو خالی کرانے کے ناپاک منصوبے کی مذمت کے طور پر گھروں سے نکلیں، پاکستانی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں فلسطین یکجہتی مارچز کا انعقاد کریں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتجاج کا مقصد امت مسلمہ کے حکمرانوں کو خواب غفلت جگانا ہے، موجودہ حالات میں حماس کا ساتھ نہ دینا منافقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 13 اپریل کو کراچی میں بہت بڑا مارچ کرے گی، 18 کو ملتان میں فلسطین مارچ ہو گا، جماعت اسلامی 20 اپریل کو اسلام آباد میں فلسطین مارچ کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں فلسطین مارچ جماعت اسلامی مارچ کرے گی اپریل کو کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔