Express News:
2026-07-24@14:38:27 GMT

دہشت گردی، کثیر الجہت چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آپریٹ کررہے ہیں، افغانستان دہشت گردوں کو لگام ڈالے، لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام، افواج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور اسٹرٹیجک مفادات کی اہمیت پر زور دیا گیا جب کہ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور دنیا کے درمیان دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، ان کے ہینڈلرز افغانستان میں ہیں اور اس درندہ صفت گروہ کو طالبان حکومت کی طرف سے آراستہ رہائش گاہیں، گاڑیاں اور امریکی چھوڑا گیا جدید وبھاری اسلحہ مہیا کیا جاتا ہے۔ مالی معاونت بھارت فراہم کرتا ہے اور واردات کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر خصوصاً بلوچستان اور کے پی کے میں ان درندوں کے سہولت کار بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی صورت میں موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ افغانستان سے اپنے چھوڑے گئے ہتھیار اور جنگی سازو سامان واپس لینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں کیونکہ یہ غیر ملکی ہتھیار پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ آج پاکستان کو ماضی کی نسبت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان کا محل وقوع اسے زبردست دفاعی اہمیت دیتا ہے اور پوری دنیا اس کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی تھی۔ بدقسمتی سے اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایک خطرناک محل وقوع میں گھرا ہوا ہے۔ سوائے اس کے آزمودہ دوست چین کے، باقی تمام ہمسائے اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

 پاکستان اس وقت دو اطراف سے دہشت گرد حملوں کی زد میں ہے۔ ایک جانب تو تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر یہ حملے کر رہی ہے۔ جس کی پناہ گاہیں، پاکستان کے بقول افغانستان کے اندر ہیں تو دوسری طرف بلوچستان میں علیحدگی پسند جنگجو کارروائیوں میں مصروف ہیں جن کا ہدف ماہرین کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور چین کے اشتراک سے چلنے والے منصوبوں کو نشانہ بنانا ہے۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو کیا کرنا چاہیے جو ماضی میں بھی ایسی صورت حال سے دوچار رہا ہے اور ماہرین کے نزدیک اس نے ملک کے اندر جڑ پکڑنے والی طالبان کی تحریک کو مرحلہ وار فوجی آپریشنز میں شدید دھچکا پہنچایا تھا، لیکن ایک بار پھر دہشت گردی پاکستان کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔

اس قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے ریاست پاکستان نے مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کی حکمت عملی اختیارکی ہے اور اس بار بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ افغان طالبان کا خیال ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کے خلاف وہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو ان کے نچلی سطح کے لوگ خاص طور سے ان کے جو جنگجو ہیں، ان کی طرف سے رد عمل آئے گا۔ شاید اس لیے وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان کے پاس یہی آپشن ہے کہ طالبان پر سفارتی دباؤ برقرار رکھے اور ظاہر ہے کہ اس حوالے سے طالبان پر ایک بین الاقوامی دباؤ بھی موجود ہے کہ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے پائے۔

بلوچستان کے اندر بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں میں شدت آ رہی ہے اورسمجھا جارہا ہے کہ یہ تنظیم اپنی کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو بلکہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے چلنے والے منصوبوں کو بھی اپنا اہم ہدف سمجھتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے بارے میں بھی پاکستان کا موقف رہا ہے کہ وہ کارروائیاں کرنے کے بعد سرحد پار چلے جاتے ہیں اور اکثر اوقات افغانستان یا ایران میں روپوش ہو جاتے ہیں۔یہ دہشت گرد جو افغانستان سے واپس آئے ہیں جارحانہ انداز میں ریاست پاکستان اور اس کے اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔پاکستانی فورسز ان دہشت گردوں سے بخوبی نمٹ رہی ہے ، دوسری جانب گراس روٹ لیول پر بھی عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چند روز قبل ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ کے مبینہ حملے میں آٹھ پاکستانی شہریوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ مقتولین کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تھا۔ حملہ آوروں کی تعداد ایک درجن سے زائد بتائی گئی ہے جو واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان ماضی میں پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اگرچہ ایران ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، مگر حالیہ واقعہ سرحدی سیکیورٹی تعاون پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستان اور ایران مل کر اس مسئلے کو حل کریں ،دونوں فورسز کے باہمی رابطے،معلومات کی شیئرنگ اور مشترکہ کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔پاکستان کی وسیع پیمانے پر انسداد دہشت گردی کی مہارت نے اسے عالمی سلامتی کے مباحثوں میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس کی سیکیورٹی ایجنسیاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، جو پاکستان کو انسداد دہشت گردی تعاون میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ سفارتی کوششیں، جیسے کہ پاکستان، افغانستان امن عمل اور علاقائی استحکام کے اقدامات، اس کے دیرپا امن کے عزم کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی طویل جدوجہد کے اثرات کا تجزیہ کر رہا ہے، اسے اپنی قربانیوں اور کامیابیوں دونوں پر غور کرنا ہوگا۔ قوم نے گہرے انسانی اور اقتصادی نقصانات برداشت کیے ہیں، سفارتی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، اور عالمی سطح پر ایک مسخ شدہ بیانیے سے دوچار رہی ہے۔ پھر بھی، اس کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی، سیکیورٹی اداروں کی مضبوطی، اور اس کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا بڑھتا ہوا اعتراف قابل ذکر کامیابیاں ہیں۔درحقیقت پاکستان اس وقت کثیر الجہت چیلنجز میں گھرا ہوا ہے۔

اب عملی اقدام کرنے کا حقیقی معنوں میں فیصلہ کرلیا گیا ہے، ترجیحات بھی متعین کرلی گئی ہیں، اب وفاق یکسو ہوگیا ہے کہ صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، صوبوں میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ کی استعدادِ کار کو بڑھایا جائے گا، اور صوبوں کو وسائل دیے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے، فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنظیم نو کی جائے گی اور اسے ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جائے گا، وزارتِ خارجہ افغان حکومت کے ساتھ روابط بڑھائے گی اور دہشت گردی کے مسئلے سے مؤثر طریقے سے نمٹا جائے گا۔ بلوچستان میں تشدد کے سلسلے کا تفصیل سے جائزہ لے کر اسے بند کرنے کی راہ اپنائی جائے گی، حق سے محروم لوگوں کو مزاحمت کاروں سے الگ کرنے کی حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا، تاہم ان فیصلوں پر نتیجہ خیز عمل درآمد کے لیے ملک میں گزشتہ کئی سال سے جاری سیاسی انتشار اور محاذ آرائی پر قابو پانا بھی ناگزیر ہے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف ثابت قدمی نے بین الاقوامی سطح پر جزوی طور پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ حال ہی میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہائی پروفائل دہشت گرد کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے تعاون کو عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اسی طرح، سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اعتراف کیا کہ سوویت افواج کو شکست دینے میں پاکستان کی مدد لینے کے بعد، امریکا نے اسے تنہا چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں شدت پسند گروہوں کو پنپنے کا موقع ملا اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔دہشت گردی کے خلاف میدان جنگ میں، پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بڑے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حملوں کی شدت اور تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

فوجی آپریشنز، جیسے کہ ضربِ عضب اور ردالفساد، نے ان علاقوں میں امن بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو پہلے شدت پسندی کا مرکز تھے۔ پاکستانی عوام کی استقامت اور محافظوں کی قربانیوں نے ملک کو انتہا پسندی کے آگے جھکنے نہیں دیا۔مستقبل کے لیے، پاکستان کو اقتصادی بحالی، اسٹرٹیجک علاقائی سفارت کاری، اور فعال عالمی شمولیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اس کی قربانیوں کو اقتصادی شراکت داری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور بین الاقوامی فورمز میں منصفانہ سلوک کے ذریعے ٹھوس فوائد میں تبدیل ہونا چاہیے۔ صرف دانشمندانہ پالیسی سازی اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے ہی پاکستان یہ یقینی بنا سکتا ہے کہ اس کی استقامت دیرپا فوائد میں ڈھلے اور قوم ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی دہشت گردی کے میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کی پاکستان کو کہ پاکستان جائے گا کے خلاف کے اندر کی طرف رہا ہے رہی ہے ہے اور اور اس

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار