’آپ کے وعدے کا کیا ہوا؟‘ امریکی وفد کی آرمی چیف کی ملاقات پر پی ٹی آئی کے حامی مایوس
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
’آپ کے وعدے کا کیا ہوا؟‘ امریکی وفد کی آرمی چیف کی ملاقات پر پی ٹی آئی کے حامی مایوس WhatsAppFacebookTwitter 0 15 April, 2025 سب نیوز
امریکی کانگریس کے رکن جیک برگمین کی سربراہی میں آنے والے تین رکنی امریکی وفد کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے وفد پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں کر سکے۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس وفد میں امریکی کانگریس کے ارکان تھامس سوزی اور جوناتھن جیکسن بھی شامل تھے۔
پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ امریکی وفد کو اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے بھی ملاقات کرنی چاہیے تھی۔
صارف محمد صدیقی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جیک برگمین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’مسٹر برگمین، آپ نے کہا تھا کہ آپ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو غیر قانونی حراست سے آزاد کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آپ کے وعدے کا کیا ہوا؟‘
اسی طرح ایک اور صارف احمد حسن نے بھی برگمین کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ اصل صورتحال جاننے کے لیے انہیں عمران خان اور ان کی بہن علیمہ خان سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔
جیک برگمین نے صحافی معید پیرزادہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عمران خان سے ملاقات ایک مثبت پیش رفت ہو گی اور اس کی کوشش کی جائے گی، مگر موجودہ دورہ صرف کاکس کی نمائندگی کے طور پر ہو گا، امریکی حکومت یا ٹرمپ انتظامیہ کی نمائندگی نہیں۔
تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے کئی اکاؤنٹس نے صارفین سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ امریکی وفد کے ارکان جیک برگمین، تھامس سوزی اور جوناتھن جیکسن کو ای میل کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔
اس معاملے پر صحافی شاہین صہبائی نے بھی سوال اٹھایا کہ آیا امریکی کانگریس کے یہ اراکین صرف پاکستانی فوج کا مؤقف سننے آئے تھے یا وہ کسی متوازن ملاقات کے لیے آئے تھے۔
تجزیہ کار مزمل سہروردی نے پی ٹی آئی کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’تمام لابی ناکام ہو گئی۔۔۔ ڈالرز ضائع ہو گئے۔‘
واضح رہے کہ ماضی میں ان ہی کانگریس ارکان نے عمران خان کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے آواز اٹھائی تھی، جس پر پی ٹی آئی کے حامیوں کو توقع تھی کہ ان کا حالیہ دورہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہوگا، مگر آرمی چیف سے ملاقات اور عمران خان سے عدم ملاقات نے ان میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی وفد پی ٹی ا ئی ا رمی چیف
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ