ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی‘ 4 خوارج ہلاک، اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 4 خوارج کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کا ایک اہلکار شہید ہوگیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا سکیورٹی فورسز نے مدی میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا خوارج سے شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی باسط صدیق نے جواں مردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ مارے گئے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں ہمارے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔نمائندہ خصو صی کے مطابق صدر زرداری نے 4 خوارج جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے ،صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری رہیں گی، دہشت گرد عناصر کے خاتمے، ملکی دفاع کیلئے ہمارا عزم غیر متزلزل رہے گا، صدر مملکت نے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کا اظہار کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔