امریکا میں پاکستانی طلبہ کو درپیش حالیہ چیلنجز کے بعد واشنگٹن جانے کے خواہشمند طلبہ اب دیگر ممالک میں تعلیم کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔

طلبہ کا رجحان کچھ عرصے سے ویسے بھی یورپ کے ایسے ممالک کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں طلبہ کی تعداد ان بڑے ممالک کی نسبت بہت کم ہے جس کی وجہ سے وہاں تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں پاکستانی طلبہ بھارتیوں پر سبقت لے گئے

واضح رہے کہ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ طلبہ کے لیے یورپ میں بھی اعلیٰ تعلیم کے مواقع موجود ہیں، لیکن اس کے بعد سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر یورپ کے کس ملک میں جاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے؟

جرمنی:

جرمنی پاکستانی طلبہ کے لیے ایک ممتاز مقام کے طور پر ابھر رہا ہے، یہاں کی کئی نامور جامعات جیسے کہ ٹی یو میونخ (TU Munich)، آر ڈبلیو ٹی ایچ آخن (RWTH Aachen University)، اور یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ (Heidelberg University)، انجینیئرنگ، سائنس اور ہیومینٹیز میں بین الاقوامی معیار کی تعلیم مفت یا انتہائی کم ٹیوشن فیس پر فراہم کرتی ہیں۔

جرمنی کی سب سے بڑی اسکالرشپ جو جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس کی جانب سے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ڈی اے اے ڈی (DAAD – German Academic Exchange Service) کے نام سے مشہور ہے، اور یہ اسکالرشپ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند بین الاقوامی طلبہ کے لیے خاص طور پر مختص ہے، جس کو حاصل کرنا طلبہ کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

فرانس:

فرانسیسی جامعات بھی پاکستانی طلبہ کے لیے بہترین انتخاب ہیں، یونیورسٹی آف پیرس (Université PSL)، ایکل پولی ٹیکنیک (École Polytechnique)، اور سوربون یونیورسٹی (Sorbonne University) آرٹس، سائنس، اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرتی ہیں۔ فرانسیسی حکومت اور مختلف تنظیمیں جیسے کہ ایفل اسکالرشپ (Eiffel Scholarship) بین الاقوامی طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔

نیدرلینڈز:

نیدرلینڈز ایک کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں انگریزی میں پڑھائی جانے والی یونیورسٹیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (Delft University of Technology)، یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم (University of Amsterdam)، اور لائیڈن یونیورسٹی (Leiden University) سائنس، ٹیکنالوجی اور سوشل سائنسز میں بہترین پروگرام پیش کرتی ہیں۔ ہالینڈ اسکالرشپ (Holland Scholarship) اور اورنج نالج پروگرام (Orange Knowledge Programme) پاکستانی طلبہ کے لیے مالی مدد کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

ان اسکالرشپس کے ذریعے طلبہ نیدر لینڈ میں اپنے لیے بہترین تعلیمی مواقع نہ صرف تلاش کرسکتے ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ نیدرلینڈز طلبہ کے اعتبار سے ایک بہترین ملک ہے۔

یہ بھی پڑھیں بین الاقوامی رضاکار تنظیم  کے ذریعے طالبات کے لیے میٹرک اسکالرشپ کا اعلان

سویڈن:

سویڈن اپنے جدت پسندانہ تعلیمی نظام اور تحقیق پر مبنی اپروچ کے لیے جانا جاتا ہے، کے ٹی ایچ رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (KTH Royal Institute of Technology)، لنڈ یونیورسٹی (Lund University)، اور اپسالا یونیورسٹی (Uppsala University) انجینیئرنگ، سائنس، اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اعلیٰ معیار کی تعلیم مہیا کرتی ہیں۔ سویڈش انسٹیٹیوٹ اسکالرشپس (Swedish Institute Scholarships) بین الاقوامی طلبہ کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔

پاکستانی طلبا کے لیے ایشیا میں ابھرتے ہوئے مواقع کون سے ہیں؟

چین:

چین تیزی سے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک اہم تعلیمی مرکز بن رہا ہے، سنگھوا یونیورسٹی (Tsinghua University)، پیکنگ یونیورسٹی (Peking University)، اور شنگھائی جیاوٹونگ یونیورسٹی (Shanghai Jiao Tong University) سائنس، انجینیئرنگ، میڈیسن اور بزنس کے شعبوں میں عالمی معیار کے پروگرام پیش کرتی ہیں، چینی حکومت اور مختلف جامعات پاکستانی طلبہ کے لیے متعدد اسکالرشپس فراہم کرتی ہیں۔

چائنا کی سب سے بڑی اسکالرشپ کو عام طور پر چینی حکومت کی اسکالرشپ (Chinese Government Scholarship – CGS) سمجھا جاتا ہے۔

یہ اسکالرشپ چین کی وزارت تعلیم کے زیرانتظام چائنا اسکالرشپ کونسل (China Scholarship Council – CSC) کے ذریعے دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر کے ہونہار طلبہ اور اسکالرز کو چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا تحقیق کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں 120 پاکستانیوں نے امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے فلبرائٹ اسکالرشپ حاصل کرلی

چینی حکومت کی اسکالرشپ مختلف اقسام کی ہوتی ہے، جو انڈرگریجویٹ، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح کے ساتھ ساتھ جنرل اور سینیئر اسکالرز کے لیے بھی دستیاب ہے۔ یہ اسکالرشپ عام طور پر ٹیوشن فیس، رہائش، طبی انشورنس اور ماہانہ وظیفہ پر مشتمل ہوتی ہے۔

اگرچہ دیگر اسکالرشپس بھی موجود ہیں، جیسے کہ مختلف یونیورسٹیوں اور مقامی حکومتوں کی طرف سے پیش کی جانے والی اسکالرشپس، لیکن چینی حکومت کی اسکالرشپ اپنی وسیع کوریج اور بڑی تعداد میں دستیاب ہونے کی وجہ سے سب سے نمایاں ہے۔

ملائیشیا:

ملائیشیا نسبتاً کم لاگت میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔ یونیورسٹی ملایا (University of Malaya)، یونیورسٹی سائنس ملائیشیا (Universiti Sains Malaysia)، اور یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا (Universiti Teknologi Malaysia) انجینئرنگ، آئی ٹی، اور بزنس کے شعبوں میں انگریزی میں تعلیم فراہم کرتی ہیں، ملائیشین حکومت اور جامعات کی جانب سے بھی اسکالرشپس دستیاب ہیں۔

چائنا کی طرح ملائیشیا میں بھی بین الاقوامی طلبہ کے لیے کئی اسکالرشپس دستیاب ہیں، لیکن سب سے بڑی اور باوقار اسکالرشپس میں سے ایک ملائیشین انٹرنیشنل اسکالرشپ (Malaysian International Scholarship – MIS) ہے۔

یہ اسکالرشپ ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے ان باصلاحیت بین الاقوامی طلبہ کو راغب کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے جو ملائیشیا کی نامور یونیورسٹیوں میں ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ کی سطح پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

آسٹریلیا:

آسٹریلیا اپنی بہترین یونیورسٹیوں اور طرز زندگی کے معیار کے لیے جانا جاتا ہے، آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی (Australian National University)، یونیورسٹی آف میلبرن (University of Melbourne)، اور یونیورسٹی آف سڈنی (University of Sydney) مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرتی ہیں۔ آسٹریلین حکومت کی جانب سے اینڈیور اسکالرشپس (Endeavour Scholarships) اور یونیورسٹی کی سطح پر بھی اسکالرشپس موجود ہیں۔

نیوزی لینڈ:

نیوزی لینڈ ایک پُرامن اور خوبصورت ملک ہے جو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے، یونیورسٹی آف آکلینڈ (University of Auckland)، وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن (Victoria University of Wellington)، اور یونیورسٹی آف اوٹاگو (University of Otago) مختلف مضامین میں بہترین پروگرام پیش کرتی ہیں، نیوزی لینڈ کی حکومت اور جامعات بین الاقوامی طلبہ کے لیے اسکالرشپس مہیا کرتی ہیں۔

نیوزی لینڈ میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے کئی اہم اسکالرشپس دستیاب ہیں، جن میں سے ایک اہم اسکالرشپ ’مانااکی نیوزی لینڈ اسکالرشپ‘ ہے۔

اس کے علاوہ، نیوزی لینڈ کی یونیورسٹیاں بھی بین الاقوامی طلبہ کے لیے مختلف اسکالرشپس پیش کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم اسکالرشپس یہ ہیں:

یہ بھی پڑھیں گوگل کا بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے 1000 اسکالر شپس کا اعلان

یونیورسٹی آف آکلینڈ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ ایکسیلنس اسکالرشپ (University of Auckland International Student Excellence Scholarship)

وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن وائس چانسلر انٹرنیشنل ایکسیلنس اسکالرشپ (Victoria University of Wellington Vice Chancellor’s International Excellence Scholarship)

یونیورسٹی آف اوٹاگو انٹرنیشنل اکیڈمک ایکسیلنس اسکالرشپ (University of Otago International Academic Excellence Scholarships)

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسکالر شپس امریکا ایشیائی ممالک بیرون ملک تعلیم پاکستانی طلبہ چین درپیش چیلنجز ڈونلڈ ٹرمپ مواقع وی نیوز یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکالر شپس امریکا ایشیائی ممالک بیرون ملک تعلیم پاکستانی طلبہ چین درپیش چیلنجز ڈونلڈ ٹرمپ مواقع وی نیوز یورپ بین الاقوامی طلبہ کے لیے پاکستانی طلبہ کے لیے طلبہ کے لیے ایک فراہم کرتی ہیں اور یونیورسٹی یونیورسٹی آف کے شعبوں میں پیش کرتی ہیں یہ اسکالرشپ چینی حکومت تعلیم حاصل نیوزی لینڈ کی جانب سے موجود ہیں حکومت اور حکومت کی میں اعلی تعلیم کے کے مواقع جاتا ہے طلبہ کو کرنے کے کے بعد

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا