کراچی حج آپریٹرز کی حج بحران کے معاملے پر آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر سے مداخلت کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
کراچی : حج آپریٹرز نے 67 ہزارعازمین کو کوٹے کے تحت اجازت دینے کا مطالبہ کردیا۔ حج آرگنائزر ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین زعیم اختر صدیقی نے وزیراعظم اورآرمی چیف سے مداخلت کی اپیل کر دی۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حج ٹور آپریٹر زعیم اختر صدیقی نے بتایا کہ تمام درخواست گزاروں کی ایڈوانس بکنگ مکمل ہو چکی ہے، اور حج آرگنائزر نے وقت پر تمام واجبات کی ادائیگی کر کے انتظامات مکمل کر لیے تھے، تاہم عین وقت پر ہزاروں درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ بحران ٹور آپریٹرز کی غلطی سے پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا کل حج کوٹہ 1,79,210 ہے جس کا 50 فیصد حصہ پرائیویٹ سیکٹر کو دیا گیا تھا، مگر تاحال صرف 23 ہزار افراد کی درخواستیں ہی کنفرم ہو سکی ہیں، جب کہ 67 ہزار افراد اب تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ان میں سے 13 ہزار ایسے حجاج ہیں جن کا اندراج سعودی نسک سسٹم میں سرے سے ہوا ہی نہیں۔
زعیم اختر صدیقی نے کہا کہ سعودی حکومت نے 23 جون 2024 کو حج سے فوراً بعد آئندہ سال کے حج کی پالیسی جاری کی تھی، جس پر عملدرآمد میں پاکستانی اداروں کو کئی مہینے لگ گئے۔ پاکستانی وزارتِ مذہبی امور نے 27 نومبر 2024 کو حج پالیسی جاری کی اور پرائیویٹ حج اسکیم کی درخواستوں کی وصولی 14 جنوری 2025 کو شروع کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ٹائم لائن کے مطابق 21 فروری تک تمام کارروائی مکمل ہونی چاہیے تھی، مگر پاکستانی نظام کی سست روی، SECP اور اسٹیٹ بینک سے منظوری میں تاخیر اور ریمیٹنس کی محدود یومیہ حد (3 لاکھ ڈالر) کے باعث رقوم کی بروقت ترسیل ممکن نہ ہو سکی۔
حج آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 500 افراد پر مشتمل کلسٹر کی حد تھی، جبکہ اس سال سعودی حکومت نے اچانک 2000 افراد والے کلسٹر نافذ کر دیے، جس پر عمل تو کیا گیا مگر اس میں وقت لگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سال حجاج کو پرانے سسٹم کے تحت حج کی اجازت دی جائے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 67 ہزار افراد نے زندگی بھر کی جمع پونجی حج کے لیے لگا دی ہے، اور ان کے ارمان خاک میں ملنے جا رہے ہیں۔ حج آرگنائزرز نے تسلیم کیا کہ سعودی ڈیجیٹل سسٹم کی سخت ٹائم لائن پر مکمل عمل نہ ہو سکا، جس پر وہ معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ 13 ہزار ایسے افراد جن کا اندراج نسک سسٹم میں نہیں ہو سکا، انہیں خصوصی اجازت دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل میرب علی نے حال ہی میں اپنی صحت سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں انگلی کے مسئلے کے باعث سرجری کروانا پڑی، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیرِ علاج رہیں۔
میرب علی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کو اپنی طبی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اداکارہ کے مطابق ان کی ایک انگلی میں حرکت محدود ہو گئی تھی اور وہ بار بار لاک ہو جاتی تھی، جس کے باعث روزمرہ امور انجام دینا مشکل ہو رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ماہر امراضِ جوڑ (رہیومیٹولوجسٹ) اور نیورولوجسٹ نے انہیں صحت مند قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں آرتھوپیڈک سرجن نے مکمل معائنے کے بعد سرجری تجویز کی۔
میرب علی کے مطابق انہیں توقع تھی کہ یہ ایک معمولی اور مختصر نوعیت کا آپریشن ہوگا، لیکن سرجری ان کی توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہوئی۔ یہ آپریشن کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں انجام دیا گیا، جہاں انہوں نے علاج کے دوران اپنی ایک ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔
View this post on Instagramاداکارہ نے بتایا کہ سرجری کے بعد اب وہ بتدریج صحت یاب ہو رہی ہیں، جبکہ ان کے دوستوں، ساتھی فنکاروں اور مداحوں کی جانب سے نیک خواہشات اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
شوبز شخصیات میں مایا خان، درفشاں سلیم، ثناء فہد اور رابعہ کلثوم سمیت متعدد فنکاروں نے میرب علی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اداکارہ کو آرام کرنے اور موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تاکہ انگلی پر مزید دباؤ نہ پڑے۔
بعض مداحوں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی طبی شکایت بعض اوقات کھیلوں یا ہاتھوں کے مسلسل استعمال کے باعث بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اداکارہ کی جانب سے صحت سے متعلق یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد مداح ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔